صومالی پارلیمنٹ پر حملہ، کم از کم دس ہلاک

کار بم دھماکے کے بعد دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اہم افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت میں قائم پارلیمنٹ ہاوس پر عسکریت پسندوں نے حملہ کر کے چار پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم دس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ مبینہ طور پریہ حملہ عسکری تنظیم الشباب نے کیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے موقع پر دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں اور لوگوں کو لاشیں اٹھاتے دیکھا ہے۔ واضح رہے عسکریت پسند تنظیم الشباب القاعدہ سے منسلک ہے اور اس کی سرگرمیاں زیادہ تر صومالیہ میں ہیں۔

اگرچہ 2011 اور 2012 کے دوران الشباب کو بڑے شہروں سے صاف کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کی طاقت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ یہ گروپ اب تک کئی مرتبہ پارلیمنٹ ہاوس کو نشنہ بنانے کی کوشش کر چکا ہے۔

موگادیشو کی پارلیمنٹ کے کے باہر ایک بارود سے بھری کار سے دھماکہ کیا گیا۔ اس کے بعد مزید دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی گئی۔

رپورٹس کے مطابق '' دھماکوں کے بعد خود قانون سازوں اور دوسرے کارکنوں کو بچانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں، لیکن دہشت گرد ابھی تک فائرنگ کر رہے ہیں، ان دہشت گردوں نے مسجد پر قبضہ کر کے اسے مورچے کی شکل دے رکھی ہے۔''

اب تک کی اطلاعات کے مطابق چار پولیس اہلکار بھی مارے جا چکے ہیں ، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مسلح افراد پارلیمنٹ کے اندر جا سکے ہیں یا نہیں۔

الشباب کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں پارلیمنٹ ک وفوجی زون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہمارے جنگجو ایک مقدس آپریشن کے لیے وہاں موجود ہیں۔'' میڈیا رپورٹس کے مطاق آپریشن برطانیہ کے وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے تک جاری تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں