.

یمنی شہر حضر موت پر القاعدہ کے ہلاکت خیز حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے جنگجوٶں نے یمن کے جنوب مشرقی صوبے حضر موت کے دوسرے بڑے شہر 'سیئون' میں حکومتی عمارتوں اور فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیان شب کی جانے والی ان کارروائیوں میں خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوئے۔

اہم فوجی چوکیاں، مقامی پولیس ہیڈکوارٹرز اور بینکوں کی شاخیں جنگجوٶں کا خصوصی ہدف تھے۔ حملہ آوروں نے بعض عمارتوں پر قبضہ کر لیا، تاہم پو پھٹنے پر انہوں نے یہ جگہیں خالی کر دیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ایک سیکیورٹی اہلکار نے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ حملہ آور شہر پر قبضہ کر کے اپنے زیر نگیں لانا چاہتے تھے۔

یمنی فوج کے ہاتھوں جنوبی شہروں ابین اور شبوہ میں القاعدہ کے ٹھکانوں کی تباہی کے بعد تنظیم کے جنگجوٶں نے ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

حکام کے مطابق القاعدہ کے حملہ آور جنگجو سیئون کے باہر صحرائی علاقوں سے 15 پک اپ ٹرکوں میں سوار ہو کر آئے اور انہوں نے شہر میں سرکاری عمارتوں پر حملے شروع کر دیئے۔

خلیجی ممالک اور امریکا مغربی دنیا کے اہم اتحادی ملک یمن میں پرتشدد کارروائیوں پر تشویش کا شکار ہیں۔ یمن، دنیا کو تیل برآمد کرنے والے اہم ملک سعودی عرب کا پڑوسی اور القاعدہ کے سخت گیر ونگ کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔