"لیبیا انتہا پسند سیاسی اسلام کا آخری گڑھ ہے"

سابق لیبی وزیر اعظم نے بھی باغی جنرل خفتر کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے سابق وزیر اعظم محمود جبریل کا کہنا ہے کہ ان کے مُلک کو انتہا پسند سیاسی اسلام کے پرچارکوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ لیبیا کو بحران سے نکالنے اور اسلام پسندوں سے چنگل سے نجات دلانے کے لیے عوام باغی جنرل خلیفہ خفتر کی مدد اور حمایت کریں۔

العربیہ نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام "پینوراما" میں گفتگو کرتے ہوئے سابق لیبی وزیر اعظم نے کہا کہ میں فوج، لیبیا کی حقیقی بالادستی اور اس کی عزت وقار کی بحالی کے لیے سڑکوں پر آئی ہے۔ میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اصل شریعت اور آئینی حکومت لیبی عوام کی منشاء کے مطابق حکومت کا قیام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم محمود جبریل نے باغی جنرل خلیفہ خفتر کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میری نگاہوں میں جنرل خفتر واحد شخص ہیں جو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک باشعور اور سمجھدار انسان ہیں اور میں انہیں ایک قومی ہیرو کا درجہ دیتا ہوں۔

ایک اور سوال کے جواب میں محمود جبریل کا کہنا تھا کہ جنرل خفتر کی قیادت میں اسلام پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے"الکرامہ" آپریشن میں عوام ان کے ساتھ ہیں۔ جبریل کے بہ قول فوج کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا گیا۔ شدت پسندوں نے فوج کی 500 اہم عہدیداروں کو قتل کیا جس کے بعد آرمی کو اسلام پسندوں کے خلاف نکلنا پڑا ہے۔

محمود جبریل نے خبردار کیا کہ فوج کو متحد نہ رکھا جا سکا تو ملک میں تین متوازی فوجیں بن جائیں گی۔ انہوں نے جنرل خفتر سے بھی اپیل کہ وہ خود کو "الکرامہ آپریشن" تک محدود رکھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں