.

تیونس میں 'النہضہ' نواز اسلامی ملیشیا پر پابندی عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی ایک عدالت نے اعتدال پسند مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ کی حمایت یافتہ 'قومی ایسوسی ایشن برائے تحفظ انقلاب' کے نام کے تحت سرگرم اسلامی ملیشیا کو تحلیل کرنے اور اس کی تمام املاک ضبط کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

یہ فیصلہ عدالت میں دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیشنل ایسوسی ایشن برائے تحفظ انقلاب ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندانہ رجحانات کو فروغ دینے کے ساتھ خود بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ لہٰذا عدالت اس پر پابندی عائد کرے۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اسلامی ملیشیا اور اس کے تمام ذیلی اداروں کو فی الفور تحلیل کرتے ہوئے ان کے تمام اثاثے بحق سرکار ضبط کیے جائیں۔

عدالت میں درخواست دائر کرنے سے قبل سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں اور اہم شخصیات بھی اسلامی ملیشیا پر پابندی عائد کرنے کے مطالبات کرتی رہی ہیں۔ تیونسی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ تحریک تحفظ انقلاب جیسے شدت پسند گروپوں کی موجودگی میں ملک میں پیش آئند پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں شفافیت ممکن نہیں کیونکہ یہ تنظیم ملک میں تشدد کے ذریعے اپنی مرضی کےانتخابی نتائج کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز صحافی اور دانشور منذر ثابت نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "عدالت کے فیصلے سے آشکار ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں نئے سیاسی روڈ میپ پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ النہضہ کی سابق حکومت کے دور میں کی گئی اہم عہدیدوں پر تعیناتیوں کو منسوخ کرنا اور اسلامی ملیشیا جیسے شدت پسند گروپوں پر پابندی عائد کرنا حکومت کی سنجیدگی ظاہر کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے ملک میں سیاسی گھٹن کی فضاء کے خاتمے اور پرامن انتخابات کی راہ ہموار ہو گی۔

'تحریک تحفظ انقلاب' کے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد بہت سے سیاسی و سماجی عناصر کو زبان لگ گئی ہے۔ اب ملک کے کونے کونے سے اسلام پسندوں پر پابندیوں کے مطالبات اٹھنے لگے ہیں۔ ملک کی ایک سرکردہ سیاسی جماعت 'ڈیموکریٹک پارٹی' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انقلاب کے محافظ شدت پسند اسلامی گروپوں پر پابندی خوش آئند فیصلہ ہے۔ عدالت کو ان تمام گروپوں پر پابندی عائد کر دینی چاہیے جو ملک میں سیاسی گھٹن پیدا کرنے اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

تیونس کے صحافی نور الدین الطیب نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب محافظ اسلامی ملیشیا کا تحلیل کیا جانا کافی نہیں ہے۔ حکومت کو ان تمام اداروں اور شخصیات پر پابندی عائد کرنی چاہیے جو ملک میں تشدد اور جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان کا اشارہ اسلام پسند تحریک الہنضہ کی جانب تھا جس پر اسلامی ملیشیا کی مبینہ حمایت اور مدد کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ تیونسی وزیر اعظم مہدی جمعہ نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں اسلامی ملیشیا کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب کے تحفظ کے لیے ہمیں کسی اسلامی شدت پسند گروہ کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت خود انقلاب کا تحفظ کرے گی۔