.

پھانسی کی منتظر سوڈانی ملحدہ کے ہاں بچی کی پیدائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں مرتد ہونے کے جرم میں سزائے موت پانے والی عورت نے خرطوم جیل کے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اس عورت کے وکیل کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستائیس سالہ مریم ابراہیم کے ہاں منگل کی صبح بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔

اس عورت نے دینِ اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی تھی جس پر اس کے خلاف خرطوم کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت نے 15 مئی کو اس کو ملحد ہونے کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی۔

سوڈانی عدالت نے 2011ء میں اس کی عیسائی خاوند کے ساتھ شادی کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا لیکن اس نے ملحد ہونے اور خاوند کے ساتھ شادی کے بغیر تعلقات کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

مریم ابراہیم نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے مسلم والد نے خاندان کو چھوڑ دیا تھا اور اس کی عیسائی کے طور پر ہی پرورش ہوئی تھی۔اس پر اس سال فروری میں مرتد ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور اس کو گرفتار کر کے جیل میں بند کردیا گیا تھا۔

اس کے خاوند ڈینیل وانی نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اس کی بیوی کو جیل کی کوٹھڑی میں کلائیوں پر زنجیریں باندھ کررکھا جارہا ہے۔اس کا بیس ماہ کا بیٹا مارٹن بھی اس کے ساتھ جیل کی کوٹھڑی میں رہ رہا ہے۔واضح رہے کہ مغربی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کو سزائے موت سنائے جانے پر تنقید کی تھی اور اس کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔