.

لیبیا: نامزد وزیراعظم کے گھر پر دستی بموں سے حملہ

محافظوں کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک،ایک زخمی حالت میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں نامعلوم مسلح افراد نے نامزد وزیراعظم احمد میتیق کی رہائش گاہ پر دستی بموں سے حملہ کیا ہے جبکہ ان کے محافظوں کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور مارا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق منگل کی صبح حملے میں احمد معیتیق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔حملہ آور دو کاروں میں سوار تھے اور انھوں نے نامزد وزیراعظم کے گھر پر راکٹ گرینیڈ فائر کیے تھے۔ان کے محافظوں نے ایک اور حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔البتہ اس حملے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے اور نہ لیبیا کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری کیا ہے۔

لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس ( عبوری پارلیمان ،جی این سی) نے مئی کے آغاز میں بیالیس سالہ کاروباری شخصیت احمد معیتیق وزیراعظم نامزد کیا تھا اور گذشتہ اتوار کو اس کے نصف سے بھی کم ارکان نے انھیں اور ان کی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دیا تھا لیکن ان کے مخالفین نے قانونی طور پر ان کے انتخاب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

گذشتہ اتوار کو جی این سی کے اجلاس میں حاضر چورانوے میں سے تراسی ارکان نے کابینہ کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب اور کابینہ پر اعتماد کے ووٹ کے وقت اجلاس میں کل دوسو میں سے دوتہائی ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔اس لیے وہ مستعفی وزیراعظم عبداللہ الثنی ہی کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں۔

لیبیا کے ایک باغی جنرل خلیفہ حفتر نے بھی احمد معیتیق کے انتخاب کو مسترد کردیا تھا اور پارلیمان کے اختیارات ایک صدارتی کونسل کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔جنرل حفتر کے وفادار جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے طرابلس میں پارلیمان کی عمارت پر حملہ کردیا تھا اور بعض ارکان کو یرغمال بنا لیا تھا۔

واضح رہے کہ موجودہ وزیراعظم عبداللہ الثنی نے گذشتہ ماہ ملک میں جاری بدامنی پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔اب اگر ان کی جگہ احمد معیتیق کو متفقہ طور پر منتخب کر لیا جاتا ہے تو وہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد لیبیا کے پانچویں وزیراعظم ہوں گے۔قذافی کے قتل اور اقتدار کے خاتمے کے بعد پے در پے برسر اقتدار آنے والی حکومتیں ملک میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی پر قابو پانے اور اپنی عمل داری قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔