ایران: "فیس بک" کے ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ درج

زکر برگ پر شہریوں کی پرائیویسی میں مداخلت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے ضلع فارس کی ایک عدالت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کے خلاف شہریوں کی 'پرائیویسی' میں مداخلت کے الزام میں ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ عدالت نے فوری طور پر مدعا علیہ یا اس کے وکیل کو طلب کر کے اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر کمان نیم سرکاری ملیشیا باسیج فورسز کے ایک عہدیدار روح اللہ مومن نے بتایا کہ ضلع فارس کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے فیس بک کے ڈائریکٹر یا ان کے قانونی مشیر کو فوری طور پر طلب کیا ہے تاہم "فیس بک" انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک اس ضمن میں کوئی بیان سامنےنہیں آیا ہے۔

باسیج کے عہدیدار روح اللہ مومن نے خبر رساں ادارے" داشنجو" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ شہریوں کی بڑی تعداد نے "فیس بک" انتظامیہ کے خلاف فارس کی ایک عدالت میں درخواستیں دی تھیں، جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سوشل ویب سائٹ 'انسٹا گرام' اور 'وٹس اپ' کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چوری کر رہا ہے لہٰذا عدالت فوری کارروائی کرتے ہوئے فیس بک انتظامیہ کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ شہریوں کی درخواستوں پر عدالت کے فاضل جج نے 'انسٹا گرام' اور 'واٹس اپ' کی سروسز بند کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

ایک سوال پر روح اللہ مومن کا کہنا تھا کہ ایرانی باشندوں کی پرائیویسی میں مداخلت کرنے پر فیس بک کے ڈائریکٹر یا اس کے قانونی مشیر کو فوری طور پر عدالت میں پیش ہو کر اپنا دفاع کرنا چاہیے۔ اگر ان کی مداخلت سے شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے تو اس کا ہرجانہ ادا کیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ ایران میں "فیس بک" کے ڈائریکٹر کے خلاف عدالتی چارہ جوئی ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب "انسٹا گرام" اور "وٹس آپ" کی سروسز پہلے بند کر دی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال کی آزادی بارے ایرانی عدلیہ اور انتظامیہ میں طویل بحث کے بعد کچھ عرصہ قبل "فیس بک" اور "ٹویٹر" کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔

سرکاری طور پر پابندی کے باوجود شہری پراکسی پروگرامات کے ذریعے فیس بک کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے سوشل میڈیا پر پابندیاں اٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن عدلیہ میں سخت گیر ایرانی ججوں کی موجودگی کے باعث انہیں اپنے مشن میں کامیابی نہیں مل سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں