.

میرینز بردار امریکی بحری بیڑے کی لیبیا روانگی

اقدام کا مقصد ہنگامی حالت میں سفارتی عملے کا انخلاء ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اپنا ایک جنگی بحری بیڑا لیبیا کے ساحل کی طرف روانہ کیا ہے، جس میں سوار ایک ہزار میرینز ہنگامی حالت میں طرابلس میں موجود امریکی سفارتی عملے کے انخلاء کے لیے آپریشن میں مدد کریں گے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ "باٹان" بحری بیڑہ لیبیا کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔ اگلے چند دنوں میں یہ جنگی بیڑہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرینز اور بحری بیڑے کی روانگی کا مقصد کوئی فوجی کارروائی ہر گز نہیں بلکہ صرف احتیاطا انہیں لیبیا کے ساحل پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالت میں وہاں پر موجود سفارتی عملے اور دیگر شہریوں کو نکالنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ایک ہزار میرینز کے علاوہ سفارت کاروں کی مدد کے لیے کئی ہیلی کاپٹر بھی جنگی بیڑے پر موجود ہیں۔ لیبیا کے جزیرہ صقلیہ کے سیگو نیلا فوجی اڈے پر پہلے بھی 250 امریکی میرینز اور سات جنگی جہاز موجود ہیں۔ امریکی سفارتی عملے کے ممکنہ انخلاء میں انہیں استعمال کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ طرابلس میں کشیدگی کے باوجود امریکی سفارت خانہ معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ جنرل ریٹائرڈ خلیفہ خفتر کے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے باوجود طرابلس میں سفارتی سرگرمیاں اپنے معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔