امریکا غیر ملکی جنگوں میں الجھنے سے گریز کرے: اوباما

قومی سلامتی کے مفادات کے پیش نظر یک طرفہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کی حکومت غیرملکی جنگجوں میں الجھنے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرے گی لیکن وہ امریکا کی قومی سلامتی کے مفادات کے پیش نظر یک طرفہ اقدامات کرسکتی ہے۔

وہ امریکی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ میں بدھ کو تقریر میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کررہے تھے۔انھوں نے شام میں جاری خانہ جنگی میں شرکت کے لیے امریکی فوجی نہ بھیجنے کے فیصلے کا ایک مرتبہ پھر دفاع کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خانہ جنگی کا شکار ملک کے بحران کا کوئی آسان حل نہیں ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے اور ان کے خلاف محاذآراء انتہا پسند گروپوں کا راستہ روکنے کے لیے شامی حزب اختلاف کی امداد میں اضافے کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر شامی حزب اختلاف کی امداد میں اضافے کے لیے کام کریں گے۔انھوں نے کانگریس پر زوردیا کہ وہ پانچ ارب ڈالرز مالیت کے انسداد دہشت گردی فنڈ کے قیام کی حمایت کرے۔اس سے شام کے ہمسایہ ممالک اردن ،لبنان ،ترکی اور عراق کی مدد کی جائے گی۔

انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بات زور دے کر کہی کہ اس وقت امریکا اور باقی دنیا کو دہشت گردی کا سب سے بڑا اور براہ راست خطرہ درپیش ہے۔خاص طور پر القاعدہ کے عدم مرکزیت کا شکار الحاقیوں اور انتہاپسند گروہوں سے خطرات لاحق ہیں۔

مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکا ''جنگوں کے طویل موسم'' کے بعد بھی بدستور دنیا کا سب سے اہم ملک ہے اور رہے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آیندہ مزید کسی فوجی مہم جوئی سے قبل ضبط وتحمل کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے مگر ساتھ ہی انھوں نے ارشاد کیا کہ اگر امریکا کی قومی سلامتی سے متعلق اہم مفادات کو کوئی خطرات لاحق ہوتے ہیں تو وہ یک طرفہ طورپر فوجی قوت کے استعمال کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا:'' جب بھی کوئی ایسا موقع پیدا ہوتا ہے تو وہ راست اقدام کرتے ہوئے ڈرون حملوں اور مشتبہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے کارروائیوں کا حکم دیں گے''۔تاہم انھوں نے افریقی ملک نائیجیریا میں حال ہی میں اسکول طالبات کے اغوا کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سکیورٹی آپریشن کے ذریعے بوکوحرام کے خطرے کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا اور اس وقت طالبات کی بحفاظت بازیابی پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر براک اوباما نے کہا کہ اس کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی کامیابی کے امکانات بھی ہیں لیکن اس ضمن میں کسی حقیقی ''پیش رفت'' کا امکان روشن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں