طالبان: افغانستان سے امریکی انخلاء کی پالیسی کی مذمت

''قبضے'' کے خاتمے تک غیر ملکی فوجیوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں نے امریکی فوج کے انخلاء کے منصوبے کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ جنگ زدہ ملک سے آخری غیرملکی فوجی کے انخلاء تک ''قبضے'' کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ روز ایک تقریر میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس سال کے اختتام تک امریکا کا جنگی مشن باضابطہ طور پر ختم ہوجائے گا اور پھر وہاں قریباً دس ہزار فوجی ہی رہیں گے جو افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔انھوں نے کہا کہ 2016ء کے اختتام تک تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

طالبان مزاحمت کاروں نے امریکی صدر کے اس اعلان کے ردعمل میں بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جب تک امریکی فوج کا انخلاء مکمل نہیں ہوجاتا،وہ لڑائی بند نہیں کریں گے۔بیان کے مطابق:''اوباما نے 2016ء کے اختتام تک دس ہزار فوجی تعینات رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اسلامی امارت افغانستان اس کی مذمت کرتی ہے اور اس کو ملکی خود مختاری ،مذہب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی سمجھتی ہے''۔

طالبان نے مزید کہا ہے کہ ''امریکی لیڈر دوسال بعد جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،وہ اسے ابھی کر گزریں۔اگر ایک بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہتا ہے تو یہ ہماری قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا اور ان کے خلاف جہاد جاری رہے گا''۔

طالبان مزاحمت کاروں کی اس دھمکی کے پیش نظر بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج کا غیر ذمے دارانہ انداز میں انخلاء ہوا تو افغانستان میں بھی عراق جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے اور وہ طوائف الملوکی کا شکار ہوجائے گا۔

ایک سکیورٹی تجزیہ کار میا گل واثق کا کہنا ہے کہ ''افغانستان ابھِی تیار نہیں ہے۔ہم ایک مضبوط حکومت کے قیام کے قابل نہیں ہوئے ہیں۔اگر وہ غیر ذمے دارانہ انداز میں نکلتے ہیں تو افغانستان عراق بن جائے گا۔امریکا نے ابھی اپنا کام مکمل نہیں کیا ہے اور یہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔جنگ جاری ہے اور دہشت گردی موجود ہے۔اس لیے ان کا کاغذوں میں انخلاء کا نظام الاوقات اور منصوبہ عملی نہیں ہے''۔

افغانستان کے سبکدوش ہونے والے صدر حامد کرزئی نے اپنے امریکی ہم منصب کے انخلاء کے منصوبے کے ردعمل میں کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا ہے۔انھوں نے افغانستان میں امریکی فوج کو 2014ء کے بعد تعینات رکھنے سے متعلق دوطرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جبکہ دونوں صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی اپنی اپنی کامیابی کی صورت میں اس معاہدے کی منظوری کا عندیہ دے چکے ہیں۔

امریکی صدر کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت اس وقت افغانستان میں موجود بتیس ہزار امریکی فوجیوں میں سے دوتہائی سے زیادہ کو اگلے سال کے آغاز تک واپس بلا لیا جائے گا اور وہاں صرف نوہزار آٹھ سو فوجی تعینات رہیں گے۔وہ لڑاکا مشنوں میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ صرف افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کا کام کریں گے۔

2015ء میں افغانستان میں رہ جانے والے فوجیوں کی تعداد میں نصف تک کمی کی جائے گی اور وہ صرف دارالحکومت کابل اور بگرام ائیربیس تک ہی محدود رہیں گے۔2016 ء کے اختتام تک ان فوجیوں کو بھی واپس بلا لیا جائے گا اور صرف ایک ہزار فوجی کابل میں امریکی سفارت خانے اور ایک سکیورٹی دفتر کی حفاظت کے لیے مامور رہیں گے۔جنوری 2017ء میں جب براک اوباما صاحب وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوں گے تو اس کے ساتھ ہی افغانستان میں امریکی فوج کا ہرطرح کا مشن مکمل ہوجائے گا اور باقی ماندہ فوجیوں کو بھی واپس بلا لیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں