قطر میں جاسوسی کے مجرم تینوں فلپائنی پادری نکلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلپائن کے بعض میڈیا ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر میں جاسوسی کے جرم میں سزایافتہ تین فلپائنی ''دوبارہ پیدائش چرچ'' سے تعلق رکھنے والے پادری ہیں اور انھیں سنائی گئی قید اور موت کی سزا کا ایک سبب ان کی مذہبی وابستگی بھی ہوسکتی ہے۔

اے بی ایس- سی بی این ٹیلی ویژن اسٹیشن نے اس چرچ سے تعلق رکھنے والے تین اور پادریوں کے بیانات کے حوالے سے کہا ہے کہ ''یہ ایشو صرف انتظامی نہیں ہے بلکہ مذہبی بھی ہے''۔ان تینوں کو بھی مذکورہ تینوں مجرموں کے ساتھ 2010ء میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن انھیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

ان تینوں پادریوں کا کہنا ہے کہ قطر کی ایک سرکاری پیٹرولیم کمپنی میں انتظامی تبدیلی کے بعد فلپائنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔اس تبدیلی کے تحت مبینہ طور پر ایک قطری اعلیٰ عہدے دار کو اس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔دوحہ میں جاسوسی کے جرم میں سزاپانے والے تینوں فلپائنی اس عہدے دار کے قریب سمجھے جاتے تھے۔

اے بی ایس- سی بی این کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ تین پادریوں میں سے ایک نے بتایا کہ وہ 2010ء میں جب ایک گرفتار فلپائنی کے گھر گیا تھا تو اس کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ان میں سے ایک پادری کو دس روز تک ہتھکڑیاں لگا کر رکھا گیا تھا اور اس دوران وہ اپنا بازو تڑوا بیٹھا تھا۔

فلپائنی حکومت نے گذشتہ سوموار کو ان تینوں تارکین وطن کو سزاسنائے جانے کی اطلاع دی تھی۔فلپائن کے محکمہ خارجہ کے ترجمان چارلس جوس نے ایک نیوزبریفنگ کے دوران بتایا کہ گذشتہ ماہ دوحہ کی ایک مقامی عدالت نے خلیجی ریاست کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب معلومات فروخت کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دے کرایک فلپائنی کو موت اور دو کو عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ان سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی گئی ہے اور ہم مجرموں کو قانونی امداد فراہم کررہے ہیں لیکن ترجمان کا کہنا تھا کہ کیس کی حساسیت کے پیش نظر ان تینوں مجرموں کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی ہے۔تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم جاسوسی کی سرگرمی میں ملوث ہونے کی دوٹوک الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔

انھوں نے رپورٹروں کو اس کیس سے متعلق مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا اور صحافیوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں دوحہ میڈیا سنٹر سے رجوع کریں۔دوحہ نیوز کے مطابق ''ان تینوں فلپائنیوں پر قطری فضائیہ کے طیاروں ،ہتھیاروں اور 2009ء اور 2010ء کے درمیان مرمت اور سروس ریکارڈز سے متعلق فلپائن کے انٹیلی جنس حکام کو معلومات افشاء کرنے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والا فلپائنی قطر کی ایک بڑی سرکاری کمپنی میں ملازم تھا اور اس نے فلپائن کو ایک ریاستی سکیورٹی فورس کی جاسوسی کی تھی۔عمرقید پانے والے دونوں فلپائنی قطر ائیرفورس میں ٹیکنیشن کے طور پر ملازم تھے۔

دوحہ نیوز نے اس کیس سے متعلق ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ جاسوسی کے اس مقدمے کے مرکزی مجرم نے مبینہ طور پر قطری فضائیہ سے متعلق خفیہ معلومات فلپائنی حکام کو فراہم کی تھیں اور کمپنیوں کو دیے جانے والے ٹھیکوں کی نقول بھی دی تھیں۔

فلپائنی اخبار منیلا بلیٹن کی رپورٹ کے مطابق دوحہ کی ایک اپیل عدالت نے ان تینوں مجرموں کی ضمانت کے لیے دائر کردہ درخواست مسترد کردی ہے اور وہ اکتوبر میں اپنے مقدمے کی آیندہ سماعت تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں