.

شامی باغیوں کے حملے میں ایران کا اہم کمانڈر ہلاک

عبداللہ اسکندری کو دمشق کے قریب ذبح کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاسداران انقلاب ایران کا ایک اہم کمانڈر عبداللہ اسکندری شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑتے ہوئے باغیوں کے حملے میں مارا گیا ہے۔

ایرانی ملٹری انٹیلی جنس کے مقرب ایک نیوز ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق اسکندری گذشتہ سوموار کو دمشق کے ایک نواحی علاقے میں باغیوں کے حملے میں مارا گیا۔ شامی محاذ جنگ میں اسکندری کی ہلاکت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ایرانی فوج براہ راست شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں پیش پیش ہے۔ اس واقعے سے تہران کے اس دعوے کی تردید ہوتی ہے کہ ایران شام کو صرف لاجسٹک سپورٹ اور مشاورت کی حد کی حد تک مدد کر رہا ہے۔

فارسی نیوز ویب سائٹ "رجا نیوز" کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ اسکندری پاسداران انقلاب کی بری فوج کا ایک ہم کمانڈر تھا جو ماضی میں جنوبی صوبہ فارس میں "الشہید" فاؤنڈیشن کا چیئرمین بھی رہ چکا ہے۔

ادھر شامی باغیوں نے انٹرنیٹ پر ایک نوجوان کی تصویر جاری کی ہے جس نے مقتول عبداللہ اسکندری کا کٹا ہوا سر اٹھا رکھا ہے۔ تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسکندری کو ذبح کیا گیا ہے کیونکہ اس کی گردن میں واضح طور پر تیز دھار آلے سے کٹی شہ رگ دکھائی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "ابنا" کے مطابق عبداللہ اسکندری سنہ 2013ء میں صوبہ فارس میں "الشہید" فاؤنڈیشن کے عہدے پر تعینات تھا۔ کچھ عرصہ قبل اس نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاجی تحریک کچلنے میں اسدی فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اسی مقصد کے لیے وہ شام پہنچا تھا۔

حال ہی میں پاسدارن انقلاب کی بیرون ملک سرگرم عسکری ملیشیا "القدس فورس" کے نگران جنرل محمد اسکندری نے شامی حکومت کی مدد کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ "ہم دمشق کو باغیوں کے خلاف جنگ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ جنگ شام نہیں بلکہ ایران کی جنگ ہے۔

بشار الاسد کی حمایت میں ایران نے 42 بریگیڈ اور 138 بٹالین فوج بھیج رکھی ہے۔ یہ تمام دعوے اور شام میں پاسداران انقلاب کے حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں کی ہلاکتیں یہ پتہ دیتی ہیں کہ ایران براہ راست یہ جنگ لڑ رہا ہے۔