.

ترکی : ٹویٹرصارف کو توہین مذہب کے جرم میں جیل کی سزا

مجرم ٹویٹر پر''اللہ سی سی'' کا اکاؤنٹ نام استعمال کرتا رہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایک استاد کو ٹویٹر پر دین اسلام اور اس کی اقدار کی توہین کے جرم میں پندرہ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔

ترک روزنامے حریت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس استاد کا نام ایرتن پی ہے اور وہ صوبہ موس سے تعلق رکھتا ہے۔اس نے ٹویٹر پر ''اللہ سی سی'' کے نام سے اکاؤنٹ بنا رکھا تھا۔اس پر مذہبی اقدار کی توہین کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

پراسیکیوٹرز نے اس پر اللہ تعالیٰ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے الزام میں مقدمہ قائم کیا تھا۔اس کے اکاؤنٹ نام کا حصہ '' سی سی ''ترک زبان میں جلجلالہک کا مخفف بتایا گیا ہے۔

حریت اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایرتن پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا اور اس نے اس بنا پر اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی ہے لیکن فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ''اس مشتبہ مجرم نے ٹویٹر پر عرفی نام کے استعمال اور پوسٹوں کا اعتراف کیا ہے ۔البتہ جرم سے بچنے کے لیے اس کا کہنا تھا کہ پوسٹس اس کے اکاؤنٹ کے ہیک کیے جانے کے بعد لکھی گئی ہوں گی مگر اس کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کیونکہ تفتیشی فائل سے وہ مجرم ثابت ہوتا ہے''۔

اس نے اللہ کی جانب سے ٹویٹر پر یہ تحریر کیا تھا:''اپنی موجودہ ذہنی حالت میں ،میں نے تو انسان کی چھوٹی انگلی بھی تخلیق نہیں کی ہوگی''۔(نعوذ باللہ من ذالک)۔اس نے ترکی میں گذشتہ سال جون میں حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے تناظر میں لکھا:''یہاں جنت بہت محفوظ ہے کیونکہ یہاں پولیس نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ ترک حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے قبل بعض ارباب اقتدار کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے سے متعلق مختلف کہانیاں اور ٹیپس سامنے آنے کے بعد مارچ میں مائیکرو بلاگنگ سائٹ کو بند کردیا تھا لیکن اس کے دو ہفتے کے بعد ہی ترکی کی ٹیلی کمیونیکشنز اتھارٹی نے آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹویٹر پر حکومت کی جانب سے عاید کردہ پابندی ختم کردی تھی۔

آئینی عدالت نے قراردیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ٹویٹر پر پابندی اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔اسی عدالت نے جمعرات کو ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر عاید پابندی بھی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ترکی کو ٹویٹر ،یوٹیوب اور فیس بُک پر پابندی عاید کرنے کی وجہ سے امریکا سمیت مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انھوں نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت سے ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔