.

دہشت گردی میں ملوث سعودی کو اسپین میں 08 سال قید

دو سابق امریکی صدور بھی ملزم کی ہٹ لسٹ میں شامل تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین کی ایک فوجداری عدالت نے دہشت گردی میں ملوث اور شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق کی پاداش میں ایک سعودی باشندے کو آٹھ سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ مضر حسین المالکی پر الزام تھا کہ وہ ہسپانیہ میں رہتے ہوئے انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ترغیب بھی دیتا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق دشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث حسین المالکی کی سزا کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ المالکی کا نہ صرف القاعدہ جیسی دہشت گرد سلفی جہادی تنظیم کے ساتھ تعلق ثابت ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں براہ راست ملوث رہا ہے۔ اس کے قبضے سے دہشت گردی پر اکسانے پر مبنی لٹریچر بھی ملا ہے۔ اس کے علاوہ انصار المجاہدین نامی دہشت گرد گروپ کی حمایت میں انٹرنیٹ پر پروپیگنڈہ کرتے ہوئے سادہ لوح نوجوانوں کو دہشت گردی کی تعلیم دیتا رہا ہے۔ اس نے سنہ 2012ء میں فرانس میں محمد مراح نامی فرانسیسی شدت پسند کے ہاتھوں چار یہودیوں کے قتل کی تعریف کرتے ہوئے مراح کی پر زور حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ہسپانوی عدالت کا مزید کہنا ہے کہ سز پانے والے سعودی عسکریت پسند نے سابق امریکی صدور جارج بش اول، جارج بش دوم، سابق اسپانوی وزیر اعظم خوسے ماریا اتھنار اور ان کے برطانوی ہم منصب ٹونی بلیئر کو بھی اپنی ہٹ لسٹ میں شامل کر رکھا تھا۔

خیال رہے کہ مضر حسین المالکی سنہ 1980ء سے اسپین میں مقیم تھا۔ اسے 27 مارچ 2012ء کو مشرقی شہر فالنسیا سے حراست میں لیا گیا۔ ملزم نے اسپانوی عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا القاعدہ یا کسی بھی دوسری دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے ایک مشغلے کے طور پر القاعدہ اور امریکا کے درمیان جاری جنگ سے متعلق معلومات جمع کرنا شروع کی تھیں۔