افغانستان میں یرغمال امریکی فوجی کی پانچ سال بعد رہائی

طالبان نے قطر کی ثالثی میں گوانتا نامو بے سے اپنے پانچ ساتھی رہا کرا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں نے پانچ سال قبل یرغمال بنائے گئے ایک امریکی فوجی سارجنٹ بو برجڈل کو رہا کر دیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ہفتے کے روز اس امریکی فوجی کی بازیابی کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس وقت وہ امریکا کی تحویل میں ہے۔ صدر اوباما نے فوجی کی رہائی میں کردار پر قطر اور افغان حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق برجڈل کو طالبان نے ایک معاہدے کے تحت رہا کیا ہے۔ انھوں نے اس کے بدلے میں امریکا کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتا نامو بے میں قید اپنے پانچ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان طالبان قیدیوں کو اس حراستی مرکز سے رہا کرنے کے بعد قطر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے اس تبادلے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں اور امریکا کے درمیان قطر کی ثالثی میں کئی ماہ تک بالواسطہ بات چیت ہوتی رہی تھی اور امریکا نے ایک فوجی کے بدلے میں پانچ طالبان کی رہائی سے اتفاق کیا تھا۔

امریکا کی اسپیشل آپریشنز فورسز نے مشرقی افغانستان میں ہفتے کے روز بغیر تشدد ایک کارروائی میں مسٹر برجڈل کو طالبان جنگجوؤں سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس فوجی کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی صحت اچھی ہے اور اس کا افغانستان ہی میں طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔

برجڈل آئیڈاہو سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ افغانستان پر اکتوبر 2001ء میں امریکی فوج کے حملے کے بعد واحد معلوم لاپتا فوجی تھا۔ اس کو 30 جون 2009ء کو افغانستان کے شورش زدہ مشرقی علاقے سے طالبان مزاحمت کاروں نے نامعلوم حالات میں پکڑ لیا تھا۔ وہ اس سے دو ماہ قبل ہی جنگ لڑنے کے لیے افغانستان آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں