انجلینا کی جنگ میں جنسی تشدد کے خاتمے کی مہم کا آغاز

مہم کے ذریعے جنسی تشدد کا تنازعات میں بطور ہتھیار استعمال روکنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی خصوصی ایلچی اور معروف امریکی اداکارہ انجلینا جولی نے مختلف بحرانوں جنسی تشدد کے بطور ہتھیار استعمال کے خلاف ایک منصوبے پر کام کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اگلے ماہ لندن میں ہونے والے عالمی سمٹ میں بطور شریک سربراہ شرکت کریں گی۔

تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے بارے میں ہونے والا عالمی سمٹ دس سے تیرہ جون تک لندن میں جاری رہے گا۔ برطانوی سیکرٹری خارجہ ولیم ہیگ بھی اس کی سربراہی کریں گے۔

منتظمین نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ تنازعات میں جنسی تشدد کے موضوع پر ہونے والے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔

بیان کے مطابق اجلاس کی کوشش ہو گی کہ جنگ کے دوران جنسی تشدد جیسے معاملے کے بارے میں ایک ناقابل تنسیخ موقف اپنایا جا سکے۔ نیز سمٹ میں ایسے اقدامات بھی تجویز کئے جائیں گے کہ جو اس موقف کو عملی طور پر نافذ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔

رواں مہینے کے اوائل میں آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ اداکارہ نے انکشاف کیا تھا وہ جنسی تشدد کے خاتمے سے متعلق اپنی مہم کو منظم کرنے کے لیے فلمی صنعت سے وقتی طور پر دست کشی اختیار کر رہی ہیں۔

"میں ایک شاندار کیرئر ملنے پر خوش ہوں۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ میں بہت سی کہانیوں پر کام کر سکتی ہوں۔ یہ بات بھی لائق تحسین ہے کہ میں اپنی مرضی کا کام کرنے کے قابل ہوں۔ میں لکھنے اور ہدایت کاری زیادہ توجہ دینا چاہوں گی۔ اس سب سے بڑھ کر میں عالمی ادارے اور جنسی تشدد سے بچاٶ کے پروگرام پر کام کر سکوں گی۔

سنہ 2011ء میں"خون اور شہد کی سرزمین" کے نام سے انجلینا جولی نے پہلی فلم بطور ہدایت کار مکمل کی۔ بوسنیا میں ہونے جنگی جرائم اور خواتین کے خلاف تشدد کو ہی اس فلم کا مرکزی خیال بنایا گیا تھا۔

انجیلینا نے حال ہی میں نائیجریا میں دو سو سکول طالبات کو اغوا کرنے والے انتہا پسند بوکو حرام نامی گروپ کی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اغوا کی اس واردات نے انہیں 'بیمار' کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں