لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن سے وابستہ صحافیہ قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے وابستہ ایک خاتون نامہ نگار نصیب کزنافہ کو نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے اس کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا ہے۔ مقتولہ کزنافہ کی گولیوں سے چھلنی لاش طرابلس کی ایک شاہراہ سے ملی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نصیب کزنافہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ٹیلی ویژن چینل کے دفتر سے اپنے شفٹ مکمل کر کے بعد گھر واپس جا رہی تھی کہ راستے میں اسے لے جانے والی وین پر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں کزنافہ اور بس ڈرائیور دونوں مارے گئے۔

لیبی اخبار "الوسط" کے مطابق تاحال سرکاری طور پر اس بہیمانہ قتل کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

خیال رہے کہ نصیب کزنافہ کے قتل سے چند روز پیشتر لیبیا میں اسلامی شدت پسندوں کے ناقد ایک دوسرے صحافی اور تجزیہ نگار مفتاح بوزید کو بنغازی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں قتل کر دیا تھا۔

مقتول اخبار"برنیق" کے چیف ایڈیٹر تھے اور انہوں نے لیبیا میں اسلامی شدت پسندوں اور جہادیوں پر اپنے اخبار میں سخت تنقید کی تھی۔

لیبیا کے سابق مقتول لیڈر کرنل معم رقذافی کے خلاف سنہ 2011ء کی عوامی بغاوت کے بعد بنغازی شہر کو اسلامی شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے تین برسوں میں سیکڑوں فوجی، پولیس افسر، جج اور صحافی اس شہر میں قاتلانہ حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں