مرسی کی 52 افراد کو معافی، عدلی منصور نے منسوخ کر دی

نو منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کے اقتدار سنبھالنے سے قبل فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے برطرف صدر محمد مرسی کے مختصر دور حکومت میں باون افراد کو دی گئی معافی کا فیصلہ منسوخ کردیا ہے۔

انھوں نے یہ اقدام نو منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کے اقتدار سنبھالنے سے قبل کیا ہے۔ مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر محمد مرسی نے اپنے ایک سالہ دور حکومت میں اخوان المسلمون کے کارکنان سمیت مختلف افراد کو اپنے پیش رو حسنی مبارک کے دورحکومت میں سنائی گئی قید اور دوسری سزاؤں کو معاف کر دیا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ 1990ء کے عشرے سے پس دیوار زنداں تھے۔

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) نے اطلاع دی ہے کہ 2012ء اور 2013ء میں ان افراد کی سزائیں معاف کی گئی تھیں لیکن عبوری صدر عدلی منصور نے ان کو منسوخ کر دیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق جن افراد کو معافی دی گئی تھی،ان میں ایک سعودی مبلغ اور اخوان المسلمون کی بین الاقوامی تحریک سے وابستہ متعدد شخصیات شامل تھیں۔

تاہم مینا نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے کن افراد کی معاف کردہ سزاؤں کو منسوخ کیا گیا ہے۔ البتہ اس نے بتایا ہے کہ ان میں سے بعض کو قتل اور بے گناہ شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کے الزام میں ماخوذ کیا گیا تھا۔

مینا کے مطابق عبوری حکومت نے سزا یافتہ افراد کی معافیوں کی تنسیخ کا فیصلہ ان کے بارے میں اختلاف رائے سامنے آنے کے بعد کیا ہے اور معاف کیے گئے افراد کے ارادی افعال کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان افراد کو دوبارہ گرفتار کرکے ان کے خلاف از سر نو مقدمات چلائے جائیں گے یا ان کی پرانی سزاؤں ہی کو بحال کردیا گیا ہے۔ان میں سے بہت سوں کو ممکنہ طور پر عدلی منصور اور سابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں اخوان المسلمون کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے دوران پہلے گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مصر کی عبوری حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز نے اگست 2013ء کے بعد اخوان مخالف کارروائیوں کے دوران ملک کی اس سب سے منظم دینی وسیاسی جماعت کی مرکزی قیادت سمیت ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا ہے۔ان میں سے ایک ہزار سے زیادہ کو موت کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور ہزاروں کو ایک سال سے تا عمر جیل کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ان سزاؤں کے خلاف امریکا سمیت مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اخوان نے مصری حکومت کی ان چیرہ دستیوں کے خلاف مہم چلائی تھی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ مصری ووٹر صدارتی انتخاب میں بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے نہیں نکلے ہیں اور ووٹر ٹرن آؤٹ بہت کم رہا ہے جس کے پیش نظر عبدالفتاح السیسی کی صدارت پر ابھی سے سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے لیے صدارتی چناؤ میں قومی مینڈیٹ حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں