مرس وائرس کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت

مرس اور سارس وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں معاون آمیزے کی دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی سائنس دانوں پر مشتمل ایک ٹیم نے کورنا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی حاصل کرلی ہے اور انھوں نے ایک ایسا آمیزہ دریافت کیا ہے جس سے مڈل ایسٹ ریسپائیریٹری سینڈروم (مرس) اور سارس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔

سویڈن کی گوتھنبرگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایڈورڈ ٹرائی بالا اور یونیورسٹی آف برن سے تعلق رکھنے والے وولکر تھیل کی قیادت میں سائنس دانوں کی ٹیم نے ''کے 22'' نامی آمیزہ دریافت کیا ہے جو مرس اور سارس کے مہلک وائرس کو انسانوں میں پھیلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

''کے 22'' کا پہلے پہل لیبارٹری میں کورنا وائرس کی کمزور شکل پر تجربہ کیا گیا تھا تو یہ پتا چلا کہ اس میں اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اس طرح کے مریضوں میں سردی کی طرح کی علامات پائی جاتی ہیں۔ کورونا وائرس سے نظام تنفس متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اس سے متاثرہ مریض کو شدید سردی لگتی ہے۔اس تجربے کے بعد یہ پتا چلا کہ یہ آمیزہ سارس اور مرس کی طرح کے زیادہ خطرناک وائرس کے علاج میں معاون ہوسکتا ہے۔

ایک خصوصی جریدے ''پلاس پاتھوجینز'' میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ان سائنس دانوں نے وضاحت کی ہے کہ انسان کے نظام تنفس سے ملنے والے خلیوں میں یہ وائرس دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔پھر یہ انسانی خلیوں کے مختلف حصوں کو الگ کرنے والے عشات کو متاثر کرتا ہے۔

لیکن کے 22 اس سے پہلے کے مرحلے میں کام کرتا ہے اور وہ وائرس کو خلیے کے عشات کا کنٹرول کرنے سے روکتا ہے۔محققین نے لکھا ہے کہ متاثرہ مفعول کے خلیے کے عشات وائرس کے زندگی کے چکر میں اہمیت رکھتے ہیں اور یہیں پر ان کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے انسداد وائرس کی دوا کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

مرس اور سارس وائرس کے حال ہی میں وبائی شکل اختیار کرنے کے پیش نظر کے 22 کے لیبیارٹری سے باہر تجربے اور اس کو دوا کی شکل میں تبدیل کرنے کے لیے فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے علاوہ دیگر اداروں کے ماہرین بھی وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں اس مہلک وائرس کے 2012ء میں نمودار ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد 196 ہوگئی ہے۔سعودی وزارت صحت کے مطابق اس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 636 ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں