.

امیر کویت کی پہلے سرکاری دورے پر تہران آمد

مبصرین نے دورے کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الصباح اپنے پہلے سرکاری دورے پر ایران پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سمیت اہم سیاسی رہ نماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ سنہ 2006ء میں اقتدار سنھبالنے کے بعد الشیخ صباح الاحمد الصباح کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امیر کویت ایران کے دورے کے دوران صدر حسن روحانی سے ملاقات کی جس میں انہوں نے شام کے مسئلے، ایران کے جوہری تنازع، عراق، خلیجی ممالک اور دیگر باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

امیر کویت کے دورہ ایران کو موجودہ حالات میں نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایران روانگی سے قبل امیر کویت نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے ایک اجلاس میں بھی شرکت کی تھی، جس کے فوری بعد وہ تہران روانہ ہو گئے تھے۔ ان کا سنہ 2006ء میں اقتدا سنھبالنے کے بعد ایران کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

مبصرین کے خیال میں سعودی عرب کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو دورے کی دعوت اور تہران کی جانب سے مثبت رد عمل کے بعد امیر کویت کا دورہ ایران نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ کویت، ایران اور سعودی عرب کے درمیان فاصلے کم کر کے دونوں مسلمان ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سعودی عرب کو شکایت ہے کہ ایران شام میں صدر بشار الاسد کی بے جا حمایت، خلیجی ملکوں میں فرقہ واریت میں ملوث ہونے کے ساتھ جوہری تنازع کے خاتمے کے بجائے عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں وقت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے، جس کے باعث دونوں ملکوں میں اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

ایران بہ اصرار یہ کہ چکا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جس سے کسی ملک کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ان تمام اختلافات کے باجود سعودی عرب نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو ریاض دورے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔

جواد ظریف نے دعوت کا خیر مقدم کیا ہے تاہم وہ فی الوقت وہ ویانا میں عالمی طاقتوں سے تہران کے جوہری معاملے پر بات چیت میں مصروف ہیں، جس کے باعث وہ سعودی عرب نہیں آ سکیں گے۔