.

ایرانی وزیر خارجہ نے دورہ سعودی عرب سے معذرت کر لی

جوہری تنازع پر مذاکرات میں مصروف ہوں: جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسلامی تعاون تنظیم [او آئی سی] کے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب جانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان دنوں چھے ملکوں کے ساتھ تہران کے جوہری تنازع پر مذاکرات میں مصروف ہیں،جس کے باعث سعودی عرب کے دورے پر نہیں آ سکیں گے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے وسط مئی میں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کو 18۔19 جون کو جدہ میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی" کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے اس دعوت کا خیر مقدم کیا تھا، تاہم اب انہوں نے اس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی ہے۔

خیال رہے کہ 16 سے 20 جون کے درمیان ویانا میں ایران اور گروپ چھ کے درمیان تہران کے جوہری معاملے پر دوبارہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ چونکہ مذاکرات اور او آئی سی اجلاس ایک ہی تاریخوں میں آ رہے ہیں اس لیے ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی عرب اجلاس میں شرکت کرنا ممکن نہیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "مجھے اسلامی تعاون تنظیم کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب کی جانب سے باضابطہ دعوت موصول ہو چکی ہے، لیکن یہ اجلاس بھی اس وقت ہو رہا ہے جب ویانا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات چل رہے ہوں گے۔ اس لیے میں اس او آئی سی کے اجلاس میں شریک نہ ہو سکنے پر معذرت خواہ ہوں"۔

جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ویانا مذاکرات کی تاریخ سعودی عرب کی جانب سے موصولہ دعوت سےپہلے طے کر لی گئی تھی، اس لیے اسے تبدیل کرنا ممکن نہیں رہا۔