.

برسلز: یہودی عجائب گھر پر حملے کا مشتبہ ملزم گرفتار

ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور "داعش" کا انسگنیا برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں پولیس نے ایک مشتبہ جنگجو کو حراست میں لے کر اس سے پوچھ تاچھ شروع کی ہے۔ فرانسیسی پبلک پراسیکیوٹر کے سیکرٹری فرانسو مولان کا کہنا ہے کہ گرفتار جنگجو مہدی نموش کے قبضے سے کئی مشکوک چیزیں ملی ہیں جن سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ اپنے چند ساتھیوں سمیت کچھ دن پہلے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک یہودی میوزیم پر حملے میں ملوث ہے۔ اس حملے میں دو اسرائیلیوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فرانسو مولان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پولیس کی تحویل میں موجود مہدی نموش سے ابھی تک کوئی اہم راز تو نہیں اگلوایا جا سکا تاہم اس کے بیگ سے کئی مشکوک چیزیں ملی ہیں۔ ان میں ایک ویڈیو کیسٹ ملی ہے۔ چالیس سیکنڈ کی ویڈیو میں دو مسلح حملہ آوروں کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں تصاویر برسلز میں یہودی عجائب گھر پر حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کی ہو سکتی ہیں۔ ملزم نے ابھی تک ان دونوں ملزمان کی شناخت نہیں کرائی۔

مہدی نموش کو گذشتہ جمعہ کے روز پولیس نے فرانس کے شہر مرسیلیا سے حراست میں لیا۔ اس کے قبضے سے ویڈیو کیمرہ، رومال جس پر شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے انسگنیا والی چادر، کلاشنکوف اور ایک پستول بھی ملے ہیں۔

ویڈیو کیمرے میں موجود چالیس سیکنڈ کی فوٹیج میں دو مسلح افراد کو دکھایا گیا ہے، تاہم ملزم ابھی تک یہ نہیں بتا پایا کہ وہ دونوں کون لوگ ہیں۔ البتہ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو فوٹیج میں موجود تصاویر برسلز میں ایک یہودی عجائب گھر پر حملہ کرنے والے جنگجوؤں کی ہے۔ ویڈیو میں مہدی کی اپنی تصویر نہیں البتہ پس منظر میں اس کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

مشتبہ ملزم کا کہنا ہے کہ جب وہ میوزیم پر حملے کی فوٹیج بنا رہا تھا تو اچانک کیمرے کی ویڈیو رُک گئی تھی، جس کے باعث حملے کی کارروائی کی عکس بندی نہیں ہو سکی۔

ملزم کے قبضے سے ایک چادر ملی ہے جس پر"داعش" کا انسگینا بنا ہوا ہے۔ ایک کلاشنکوف اور 38 ملی میٹر دھانے کی ایک پستول بھی برآمد کی گئی جو مبینہ طور پر برسلز میوزیم حملے میں استعمال کی گئی ہیں۔

فرانسیسی سیکرٹری پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ مہدی نموش پہلی مرتبہ منظر عام پر نہیں آیا بلکہ یہ سنہ 2001ء کے بعد سے پانچ مرتبہ فرانسیسی جیلوں میں قید کاٹ چکا ہے۔ اس پر کاریں چوری کرنے، لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے اور جیل میں انتہا پسندانہ خیالات کی تبلیغ کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

آخری مرتبہ جیل سے رہائی کے بعد اکتیس دسمبر 2012ء کو وہ شام چلا گیا تھا۔ شام کے لیے وہ پہلے لندن پہنچا اور وہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے ترکی کے شہر استنبول سے ہوتے ہوئے شام داخل ہوا۔ 2014ء کے اوائل میں وہ شام سے واپس جرمنی کے لیے روانہ ہوا ۔ وہاں سے بیلجیئم کے راستے دوبارہ فرانس پہنچا جہاں حال ہی میں اسے حراست میں لیا گیا ہے۔