.

بیٹی کی عزت لوٹنے والے مشتبہ ملزم کی سرعام دھنائی

ملائشین پولیس کو'قانون ہاتھ میں لینے' والی ماں کی تلاش میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا میں ایک خاتون نے اپنی کم عمر بیٹی کی آبرو آبرو ریزی میں ملوث مشتبہ شخص کو دیگر شہریوں کی مدد سے مار مار کر ادھ موا کر دیا، جس کے بعد اسے اسپتال داخل کرانا پڑا۔

ملائشین میڈیا کے مطابق یہ واقعہ شمال مشرقی ملائیشیا کے 'تاوانج' نامی قصبے میں پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق تیرہ سالہ لڑکی کی آبرو ریزی میں ملوث 28 سالہ شخص کو متاثرہ لڑکی کی ماں نے مقامی شہریوں کی مدد سے پکڑا، اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اسے عریاں کر کے لاٹھیوں سے بری طرح پیٹا۔ جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق مقامی شہریوں نے دو افراد کے خلاف لڑکی کی عصمت دری کی گواہی دی اور کہا کہ انہوں نے سر عام کم سن لڑکی کی عزت تاراج کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق'تاوانج' کے سٹی پولیس چیف لائے یونگ ہینگ نے بتایا کہ مقامی شہریوں نے ایک دوسرے شخص کو بھی لڑکی پر جنسی زیادتی کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایا ہے تاہم وہ زیادہ زخمی نہیں ہے۔ پولیس نے قانون ہاتھ میں لینے والی خاتون کی تلاش شروع کی ہے تاہم وہ ابھی تک رو پوش ہے اور نوجوان کی پٹائی کے بعد رابطے میں نہیں آ سکی۔

انہوں نے کہا کہ آبرو ریزی سنگین جرم ہے لیکن اس کے لیے ملک میں قانون اور سزاء موجود ہیں۔ قانون ہاتھ میں لے کر کسی کو تشدد کا نشانہ بنانے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔

پولیس نے لڑکی کی والدہ اور تشدد میں ملوث دیگر ملزمان سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پرخود کو حکام کے حوالے کر دیں، ورنہ پولیس خود انہیں ڈھونڈ نکالے گی۔ انہوں نے قانون ہاتھ میں لے کر خود ریاستی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہیں اس اقدام کی ہر گز اجازت نہیں تھی۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پہلے ملزم کے دھڑ، سر اور چہرے پر گہرے زخم ہیں اور صحت یاب ہونے تک اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ دوسرے ملزم کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے کر اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں دونوں ملزمان کو کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

خاتون کے ہاتھوں بیٹی کی عصمت ریزی کے مرتکب کی خبر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر شہریوں نے متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے خاتون کےہاتھوں ملزم کی پٹائی کی حمایت کی ہے۔

ایک مقامی سماجی کارکن اسٹیفن ریچنر کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ لڑکی کی ماں کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی وہی کچھ کرتا جو اس خاتون نے ملزم کے ساتھ کیا ہے۔ ایسے لوگوں کو دیگر جرائم پیشہ عناصر کے لیے عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔