.

اردن: مرس وائرس سے اموات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں کورنا وائرس مڈل ایسٹ ریسپائٹری سینڈروم (مرس ) کا شکار ایک انہتر سالہ شخص دم توڑ گیا ہے۔

اردن کی وزارت صحت کے شعبہ وبائی امراض کے ایک عہدے دار سلطان خسراوی کے مطابق متوفی ذیابیطس اور بلند فشار خون ایسے خاموش قاتل امراض میں بھی مبتلا تھا۔اس کو مرس وائرس سے متاثر ہونے کے بعد پانچ روز قبل اسپتال میں لایا گیا تھا جہاں وہ اختتام ہفتہ پر دم توڑ گیا۔

اس شخص کی موت کے بعد اردن میں مرس سے مرنے والوں کی تعداد چھے ہوگئی ہے۔اردن میں بھی مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک کی طرح 2012ء میں پہلی مرتبہ مرس کا وائرس پائے جانے کی تشخیص ہوئی تھی۔

مرس کو مہلک خیال کیا جاتا ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق اس نے ابھی وبائی شکل اختیار نہیں کی ہے اور یہ اسی طرح کے ایک اور وائرس سوئیر ریسپائٹری سینڈروم (سارس) کے برعکس ایک مریض سے دوسرے فرد میں تیزی سے منتقل نہیں ہوتا ہے۔

سارس کی طرح اس سے بھی مریض کے پھیپھڑوں سمیت نظام تنفس متاثر ہوتا ہے۔اس کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بخار ہوجاتا ہے لیکن مرس سارس سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس سے متاثرہ شخص کے گردے تیزی سے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔

حال ہی میں عالمی سائنس دانوں اور سویڈش ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے کورنا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور انھوں نے ایک ایسا آمیزہ دریافت کرنے کی اطلاع دی ہے جو مرس اور سارس کے مہلک وائرس کو انسانوں میں پھیلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے علاوہ دیگر اداروں کے ماہرین بھی وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔سعودی عرب میں 2012ء میں اس مہلک وائرس کے نمودار ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد 196 ہوچکی ہے۔سعودی وزارت صحت کے مطابق اس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 636 ہے جو اس وقت مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔