.

سپین کے شاہ ہوان کارلوس بیٹے کے حق میں دست بردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین کے شاہ ہوان کارلوس نے انتالیس سالہ حکمرانی کے بعد اپنے بیٹے شہزادہ فلپ کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

ہسپانوِی وزیراعظم ماریانو رہوئے نے سوموار کو اچانک شاہ ہوان کے بادشاہت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے جس کے چند گھنٹے کے بعد وہ خود ٹی وی پر نمودار ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ''نئی نسل درست طور پر قائدانہ کردار کا مطالبہ کررہی ہے''۔

ہوان کارلوس نومبر 1975 ء میں مطلق العنان جنرل فرانسیکو فرانکو کی موت کے بعد بادشاہ بنے تھے۔ڈھلتی عمر کے ساتھ خرابیِ صحت اور شاہی خاندان کے اسکینڈلوں کی وجہ سے ان کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کے پیش نظر انھوں نے تخت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ ''ان کا چھیالیس سالہ بیٹا شہزادہ فلپ بادشاہ بننے کو تیار ہے۔ان کے بادشاہت میں امید کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا''۔انھوں نے کہا کہ وہ آیندہ جنوری میں عمر کے چھہتر سال پورے ہونے پر اقتدار چھوڑ دیں گے۔

سپین کے شاہی خاندان کو حالیہ برسوں میں مختلف مالیاتی اور دوسرے اسکینڈلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن شہزادہ فلپ ڈی بوربون نے ان اسکینڈلوں سے اپنا دامن بچائے رکھا ہے۔

ہوان کارلوس کے امیج کو اپریل 2012ء میں اس وقت شدید دھچکا لگا تھا جب وہ ہاتھی کے شکار کے لیے لگژری سفاری لے کر بوٹسوانا جا پہنچے تھے۔اس وقت ان کی رعایا شدید معاشی مشکلات سے دوچار تھی اور ہر چوتھا ہسپانوی بے روزگار تھا۔تاہم سپین کے آیندہ بادشاہ نے ان اسکینڈلوں سے اپنا دامن بچائے رکھا ہے۔ ملک میں کرائے گئے ایک حالیہ سروے میں 66 فی صد شہریوں نے ان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔