.

ایرانی خاندان 74 سال بعد ملکی شہریت لینے میں کامیاب

قدیم بود و باش رکھنے والے خاندان کا تعلق وادی ارم سے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ علاقے وادی ارم سے تعلق رکھنے والے ایک گیارہ رکنی خاندان نے 74 سال کی طویل جدو جہد کے بعد ملک کی شہریت حاصل کر لی۔ تہران حکومت نے 'بہمنیار دامیدہ' خاندان کے گیارہ افراد کو قومی شناختی کارڈ جاری کرتے ہوئے ان کا حق شہریت تسلیم کیا ہے۔

خیال رہے کہ شہریت حاصل کرنے والے خاندان کا تعلق کسی دوسرے ملک سے نہیں بلکہ ایران کے جنوب میں ایک زرخیز لیکن دور افتادہ پہاڑے علاقے 'وادی ارم' سے ہے۔ وادی کی ایک جانب ضلع فارس اور دوسری جانب ایٹمی تنصیبات کے حوالے سے مشہور بوشہر واقع ہیں۔ ان کے بیچوں بیچ یہ تنگ پہاڑی وادی تقریباً تین ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جن کی اکثریت بنیادی انسانی ضروریات اور شہری حقوق سے یکسر محروم ہیں۔ یہ لوگ مدتوں سے اسی وادی میں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ گلہ بانی ان کا واحد پیشہ ہے۔ بودو باش میں یہ صرف جھونڑیاں تعمیر کرتے اور مویشیوں کے ہمراہ سال میں دو مرتبہ نقل مکانی کرتے ہیں۔

قومی شناختی کارڈ اور شہریت حاصل کرنے سے قبل یہ خاندان بنیادی تعلیم، صحت اور سماجی حقوق سے محروم رہا ہے۔ گو کہ انہوں نے شہریت کے حصول کے لیے کوششیں عرصہ دراز سے شروع کر رکھی تھیں لیکن ایرانی حکومت اس معاملے میں کوتاہی برتتی چلی آ رہی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وادی ارم میں رہنے والے زیادہ تر لوگ قبائلی طرز زندگی گذارتے ہیں۔ یہ وہاں کے قدیم باشندے نہیں بلکہ آس پاس کے علاقوں سے نقل مکانی کرکے وہاں گئے ہیں۔ ان میں اکثریت ترک القشقائین قبیلے کے لوگوں کی ہے۔ سردیوں میں یہ اپنے مویشی ساتھ لیے جنوبی ایران کے زرخیز علاقوں اور ساحل الخلیج کا رخ کرتے ہیں جبکہ گرمیوں میں شمال کی جانب جاتے ہیں۔ وادی ارم بھی زرخیز علاقہ ہے مگر اس کے باوجود وہاں کی آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' نے شہریت حاصل کرنے والے خاندان سے کچھ سوال جواب کیے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ان کے پڑ دادا نے 200 سال پہلے وہاں رہائش اختیار کی جس کے بعد ان کی اولاد اب کئی خاندانوں پھیل چکی ہے۔

بیماروں کے علاج سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امراض کے علاج کے لیے ان کے پاس کوئی اسپتال یا جدید طبی سہولت تو نہ تھی مگر قدرتی جڑی بوٹیوں ہی سے علاج معالجہ کر لیتے۔ اقتصادی اور معاشی طور پر وہ جدید کاروباری طریقوں سے بالکل بے خبر تھے۔ انہیں جب آٹا، چاول یا اس نوعیت کی کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ بکریاں دے کر اس کے بدلے میں وہ ضروریات پوری کرتے کیونکہ وہ نہ تو کرنسی کے بارے میں جانتے تھے اور نہ کبھی کسی نے انہیں دی تھی۔

شہری حقوق حاصل کرنے والے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ایک خاص طرز زندگی پر چلتے آ رہے تھے۔ پہلے تو انہوں نے شہریت کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ انہیں خوشی ہے کہ حکومت نے آخر کار انہیں ایران کا شہری تسلیم کر لیا اور ان کے بنیادی حقوق کی ذمہ داری بھی لے لی ہے۔