.

شام میں 30 فرانسیسی جنگجو مارے جا چکے: صدر اولاند

جی سیون ممالک میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف تعاون پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے سات بڑے امیر ملکوں نے مغرب سے تعلق رکھنے والے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ جی سیون کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ شام میں لڑنے کے لیے جانے والے 30 سے زیادہ فرانسیسی شہری مارے جا چکے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف بر سر پیکار مغربی ملکوں کے جہادیوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے خفیہ معلومات کے تبادلے کے عمل میں بھی مزید بہتری لانے کے لیے کہا۔

فرانسو اولاند نے کہا:''ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس طرح کی کسی تحریک سے بچنے، اسے روکنے اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے، کیونکہ ایسے عناصر سے ہماری اپنی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ''

اسلامی عکریت پسندوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ''24 مئی کو برسلز میں یہودی عجائب گھر پر حملے میں فرانس کا شہری ملوث تھا جو شام چلا گیا تھا اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔''

فرانسیسی حکام کا اس سے پہلے کہنا تھا کہ اب تک 300 کے قریب فرانسیسی نوجوان شام کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے جا چکے ہیں۔ ان میں صدر کے بقول 30 سے زائد مارے جا چکے ہیں۔

جی سیون کے اجلاس میں موجود عالمی رہنماوں نے مغربی ملکوں کے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسلامی عسکریت پسندوں کے بارے میں پہلے سے جاری کوششوں اور ان سے نمٹنے کے لیے وسائل اور مہارتوں کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ باہمی تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔

ان ذرائع کے مطابق شام سے جغرافیائی اعتبار سے جڑے ملکوں کے ساتھ تعاون کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہے۔ اس لیے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف آیندہ دنوں میں سخت اور ہمہ گیر کوششوں کا امکان ہے۔