.

تیونس کا شام میں انتظامی دفتر کھولنے کا فیصلہ

دفتر کھولنے کا مقصد جہادیوں کی نگرانی کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو سالہ سفارتی تعطل کے بعد تیونس نے شام میں اپنا انتظامی دفتر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ انتظامی دفتر کے قیام کا مقصد تیونس سے تعلق رکھنے والے جہادی عناصر کے شامی میدان جنگ میں شرکت کرنے اور 'جہاد بالنکاح' سے متعلق سامنے آنے والی افواہوں کی تحقیقات کرنا ہے۔

تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان مختار الشواسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت نے دمشق میں انتظامی دفتر کھولنے کے لیے شامی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دمشق میں انتظامی دفتر کے قیام کا مقصد شام میں موجود تیونسی شہریوں کی سماجی اور انتظامی شعبوں میں معاونت کو یقینی بنانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ انتظامی دفترکے قیام کا مطلب شامی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا نہیں ہے بلکہ محض انتظامی ضروریات کی خاطر یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق تیونسی حکومت کے اس اقدام پر ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تیونس سرکار شام میں اپنے شہریوں کی مانیٹرنگ کی آڑ میں بشار الاسد حکومت کے ساتھ عاجلانہ انداز میں راہ و رسم بڑھانا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ تیونسی صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی نے دو سال قبل شامی حکومت کی طرف سے احتجاجی تحریک کچلنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تیونس میں متعین دمشق کے سفیر کو بے دخل کر دیا تھا۔ تیونس کے علاوہ کئی دوسرے عرب ممالک نے بھی سنہ 2012ء میں شام سے سفارتی تعلقات ختم کر لیے تھے۔