.

سوشل میڈیا پر تصویر کے ذریعے 'جادو ٹونہ' ممکن؟

سوڈانی جادوگر کا سعودی ٹی وی پر دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو فوٹیج ان دنوں تیزی سے پھیل رہی ہے جس میں ایک سوڈانی جادو گر نے دعویٰ کیا ہے کہ انسٹا گرام، ٹویٹر اور دیگر سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر موجود تصاویر کے ذریعے جادو ٹونہ ممکن ہے۔

یہ ویڈیو فوٹیج جادو سے توبہ تائب ہونے والے ایک سابق جادوگر حامد موسیٰ کے سعودی عرب کے ٹیلی ویژن چینل ون کو دیے گئے ایک انٹرویو کا حصہ ہے۔ چند روز پیشتر سعودی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مسٹر حامد کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرآپ کی تصویر کے ذریعے آپ پر جادو کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر موجود تصویر کی مدد سے جادو ٹونہ کی مزید وضاحت تو نہیں کی البتہ ان کا کہنا تھا کہ افریقا کی جانب سے کسی نامعلوم شخص کی "وٹس آپ" کے ذریعے کال دوسرے شخص کے لیے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ کال سننے والے کی تصویر کی مدد سے اس پر جادو ممکن ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں جادو ٹونہ اور اس قسم کے دیگر سماجی جرائم کے خلاف سخت ترین قوانین اور کڑی سزائیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود بیشتر افریقی حج اور عمرہ کی غرض سے مملکت میں اس دھندے سے باز نہیں آتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں میں سعودی مذہبی پولیس نے ایسے دسیوں افریقی باشندوں اور دوسرے غیر ملکیوں کو حراست میں لے کر انہیں عدالت کے ذریعے پھانسی بھی دلوائی ہے۔ سعودی عرب میں جادو ٹونہ کی سزا موت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوڈانی جادوگر حامد موسیٰ کے ٹی وی انٹرویو کا ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جب سے تصویر کے ذریعے جادو کے اثرات پہنچنے کی بات مشہور ہوئی ہے شہری 'ان دیکھے خوف' کا شکار ہیں۔

سعودی عرب میں یومیہ 20 ملین افراد سوشل میڈیا کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک رابطے کرتے ہیں۔ ان کے رابطہ لنکس پران کی ایک سے زائد تصاویر بھی موجود ہوتی ہیں۔ ویڈیو فوٹیج پر شہریوں کے تبصروں میں تجویز دی جا رہی ہے کہ اگر تصوریر کی مدد سے جادو ہو سکتا ہے تو کہ صارفین کو اپنی اور اہل خانہ کی تصاویر کے استعمال سے احتراز برتنا چاہیے۔