.

٘مصر: عبدالفتاح السیسی نے صدارت کا حلف اٹھا لیا

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان قیادت کی تبدیلی کی تقریب میں شرکت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی ملک کے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں یکطرفہ کامیابی حاصل کی تھی۔

دستوری عدالت کے سامنے ہونے والی اس تقریب میں عبوری صدر عدلی منصور، جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ ڈاکٹر احمد الطیب اور قبطی عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ تواضرس سمیت مختلف اہم شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ تقریب حلف وفاداری کے موقع پر قاہرہ میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات دیکھنے میں آئے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز بھی تقریب میں شرکت کے لیے سعودی عرب سے روانہ ہو چکے ہیں۔

حلف وفاداری کی تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کی گئی۔ تلاوت کے بعد سپریم دستوری عدالت کے نائب ماہر سامی نے مختصر خطاب کیا۔ اس موقع پر دستوری عدالت کے ارکان بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ صدر السیسی کے لیے حلف اٹھانے کا یہ پہلا موقع نہیں۔ انہوں نے پہلا حلف سنہ 1977ء میں ملڑی اکیڈیمی سے پاسنگ آوٹ کے وقت اٹھایا تھا۔ وزیر وفاع کے منصب تک پہنچتے ہوئے انہوں نے تین مرتبہ حلف اٹھایا۔ پہلا حلف سنہ 2012ء میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے سامنے، جبکہ دوسرا حلف عبوری صدر مںصور عدلی کے سامنے اس وقت اٹھایا کہ جن وہ فوجی طاقت کے زور پر سنہ 2013 میں صدر مرسی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے۔ تیسری مرتبہ عبدالفتاح السیسی نے ابراہیم محلب کی کابینہ میں وزیر دفاع کے طور پر مارچ 2014 میں لیا۔ اتوار کے روز انہوں نے اپنی زندگی کا پانچواں حلف بطور صدر جمہوریہ عربیہ مصر اٹھا کر اپنا قائم کردہ ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حلف وفاداری کے بعد صدر مملکت الاتحادیہ پیلس جائیں گے جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی اور گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔ وہ اس موقع پر گارڈ آف آنر کا معائنہ کریں گے، جس کے بعد سابق صدر منصور عدلی ان سے ملاقات کریں گے۔

اس کے بعد صدر عبدالفتاح السیسی قیادت کی تبدیلی کی تقریب میں شرکت کرنے والے غیر ملکی وفود، سربراہاں اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس موقع پر عدلی مںصور الوداعی خطاب کریں گے جس کے بعد نئے صدر کا خطاب ہو گا۔ دونوں رہنما تقریروں کے بعد قیادت کی تبدیلی کی دستاویز پر دستخط کریں گے جسے مبصریں مصر کی سیاسی تاریخ کا اہم باب قرار دے رہے ہیں۔

قیادت کی تبدیلی کی دستاویز پر دستخط کے بعد مہمانوں کو عشائیہ دیا جائے گا جس میں تقریبا 1200 مہمان شریک ہوں گے۔ توقع ہے کہ اتوار کی شب نئے صدر قوم سے خطاب بھی کریں گے۔