.

جنرل حفتر سے لڑائی میں مرنے والے شہید ہوں گے:لیبی مفتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ایک مفتی نے سابق جنرل خلیفہ حفتر کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ان کے وفادار جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں مارے جانے والے لوگ شہید ہوں گے۔

العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے مفتی الصادق الغریانی نے سرکاری ٹیلی ویژن چینل الوطنیہ کے پروگرام ''اسلام اور زندگی''میں گفتگو کرتے ہوئے یہ فتویٰ جاری کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جوکوئی بھی خلیفہ حفتر کی وفادار ملیشیا میں شامل ہوگا اور لڑائی میں مارے جائے گا تو وہ جہالت کی موت مرے گا لیکن جو کوئی ان کے خلاف لڑتے ہوئے مارا جائے گا تو وہ شہید ہوگا''۔

مفتی غریانی نے کہا کہ یہ بیان پہلے دارالافتاء ویب سائٹ پر شائع ہوچکا ہے۔اب وہ ناظرین کو صرف اس کی یاددہانی کرارہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ حفتر کی مدد کررہے ہیں،وہ اس بات کے حق دار ہیں کہ ان کے خلاف لڑا جائے کیونکہ وہ اللہ کی حکمرانی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں اور ناجائز طور پر لوگوں کو قتل کررہے ہیں۔

جنرل خلیفہ حفتر کے حامی انھیں ایک ہیرو کے طور پر پیش کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلح گروہوں کو کچلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک مضبوط قومی فوج بھی تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن لیبیا کی عبوری حکومت نے حفتراور ان کی ملیشیا کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے جبکہ ان کے اسلام پسند ناقدین ان پر مسلح فوجی بغاوت کا الزام عاید کررہے ہیں مگر وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔گذشتہ ہفتے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی کے نزدیک ایک خود کش بمبار نے ان کے ولا پر حملہ کیا تھا لیکن وہ اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے تھے۔تاہم ان کے تین معاونین مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ خلیفہ حفتر قذافی دور میں فوج میں جنرل رہے تھے۔وہ قریباً دوعشرے تک امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار چکے ہیں اور وہ 2011ء کے اوائل میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دوران امریکا سے لیبیا لوٹے تھے۔ان پر تب قذافی حکومت نے امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور اب ان کے متحارب جنگجو گروپ بھی انھیں امریکی ایجنٹ اور سی آئی اے کا آلہ کار قرار دے رہے ہیں۔