.

فیفا صدر:قطر مخالف مہم پر برطانوی میڈیا کی مذمت

''قطر گیٹ'' کے ذریعے فیفا کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے: سیپ بلیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن (فیفا) کے صدر سیپ بلیٹر نے خلیجی ریاست قطر کے 2022ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے انتخاب کے خلاف برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والے آئے دن نت نئی کہانیوں کی مذمت کی ہے اور برطانوی میڈیا کی اس مہم کو نسل پرستانہ اور امتیازی قرار دیا ہے۔

اٹھہتر سالہ سیپ بلیٹر نے اس اسکینڈل کو ''قطر گیٹ '' کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر قطر ورلڈ کپ سے متعلق فیفا کے خلاف طوفان برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس کا مقصد فیفا کو تباہ کرنا ہے۔اس میں بہت کچھ امتیازی اور نسل پرستانہ ہے۔اس سے مجھے صدمہ پہنچا ہے اور میرا دل دکھا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''فیفا کو امتیازیت اور نسل پرستی کی کسی بھی شکل سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔برطانوی پریس میں جو کچھ چھپا ہے،وہ ہم نے دیکھا ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کیا مقصد پنہاں ہے لیکن ہمیں اپنا اتحاد برقرار رکھنا ہوگا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم ایک ایسی صورت حال سے دوچار ہیں جس میں قیادت کی ضرورت ہے۔اگر ہم اتحاد کا مظاہرہ کریں تو اس صورت ہی میں دنیا میں فیفا کو تباہی سے دوچار کرنے کے خواہاں افراد سے نمٹ سکتے ہیں۔وہ ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ فٹ بال کو نہیں بلکہ ادارے فیفا کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ہمارا ادارہ مضبوط ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اس کو تباہ نہیں کر سکیں گے''۔

برطانوی اخبارات میں قطر کے 2010ء میں فٹ بال عالمی کپ کے لیے انتخاب کے بعد سے ایک مہم برپا ہے اور یہ الزامات عاید کیے جارہے ہیں کہ قطر نے دولت کے ذریعے یہ میزبانی خریدی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے برطانوی اخبارات میں چھپنے والے مواد کو نسل پرستی پر مبنی اور امتیازی قرار دیا ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے گذشتہ ہفتے یہ دعویٰ کیا تھا کہ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق رکن کی حیثیت سے قطر سے تعلق رکھنے والے محمد بن ہمام نے کل پچاس لاکھ ڈالرز کی رقم مختلف فٹ بال عہدے داروں کو دی تھی تاکہ وہ قطر کے 2022ء میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے انتخاب میں مدد دیں۔

اس اخبار نے محمد بن ہمام پر یہ تازہ الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے فیفا کی نیلامی کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم ایشیائی ووٹ کے حصول کے لیے سترہ لاکھ ڈالرزادا کیے تھے۔فیفا کے نائب صدر جیم بوائس کا کہنا ہے کہ اگر قطر پر لگائے گئے یہ الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو وہ کسی اور میزبان ملک کے انتخاب کے لیے رائے شماری کی حمایت کریں گے۔

قطر کی عالمی کپ کمیٹی بدعنوانیوں کے ان الزامات کی تردید کرچکی ہے۔کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ''بِڈ کمیٹی نے فیفا کے نیلامی کے قواعد وضوابط اور ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پاسداری کی تھی اور وہ عام افراد کے درمیان کاروباری معاملات کے بارے میں بالکل آگاہ نہیں تھی''۔فیفا کی اخلاقیات کمیٹی ان الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔