.

دلیپ کمار پر کتاب کی رونمائی میں فلمی ستاروں کی شرکت

امیتابھ، عامر خان، دھرمیندر، مادھوری اور وجنتی مالا کا شہنشاہ جذبات کو خراج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بالی ووڈ کی افسانوی اور دیو مالائی شخصیت دلیپ کمار عرف یوسف خان کی سوانح حیات کا اجراء ایک شاندار تقریب میں ہوا۔ 'سبسٹینس اور شیڈو' کے عنوان کے تحت لکھی جانے والی سوانح حیات کی رونمائی امیتابھ بچن اور عامر خان نے کی۔

کتاب اجراء کی تقریب کے اس موقع پر دلیپ کمار کی بیوی سائرہ بانو کے علاوہ بالی ووڈ کے دھر میندر، عامر خان، وجینتی مالا، مادھوری ڈکشٹ اور پرینکا چوپڑا سمیت متعدد مشہور ہستیاں موجود تھیں۔ مہمان فلمی ستاروں نے بھرپور طور پر اس عظیم فنکار کی خدمات کا اعتراف کیا۔ دلیپ کمار کی سوانح عمری ان کے قریبی خاندانی دوست ادیہ تارانائر نے تحریر کی ہے۔

اس کتاب کے ذریعے دلیپ کمار کی زندگی کی کہانی سلسلہ وار طریقے سے کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں انکے بچپن، کیریئر، زندگی کے اتار چڑھائو، خاندان کے حالات کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ ہے۔

سائرہ بانو نے اس موقع پر کہا کہ ’’ہمارے لئے یا شام خاص ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی سوانح عمری پسند کرے گا۔ مجھے آج بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میرے لئے یہ ایک خواب کے سچ ہونے جیسا ہے۔ دراصل میرا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ہے۔ ہر کوئی ان کے بچپن اور بڑے ہونے کے دور کی کہانی جان سکے گا۔ یہ باتیں ٓپ خود انکی زبانی سنیں گے۔ پہلی بار انہوں نے اس بارے میں بات کی ہے۔

اس موقع پر عامر خان نے پرسون جوشی کی لکھی نظم پڑھی اور کئی اداکاروں نے اسٹیج پر آ کر عظیم فنکار دلیپ کمار کے بارے میں اپنے تجربات پیش کیے۔ ایک ڈاکو مینٹری بھی دکھائی گئی جس میں دلیپ صاحب نے اپنے حالات زندگی سے مطلع کیا۔

امیتابھ بچن نے انکی کتاب کے چند پیراگراف پڑھے اور کہا کہ "میں دلیپ کمار کو عظمت کی سلام کرتا ہوں، ایک بڑے فنکار ہی نہیں وہ ایک بڑے انسان بھی ہیں۔‘‘ دھر میندر نے خالص اردو میں تقریر کرتے ہوئے انہیں اپنا بڑا بھائی قرار دیا اور کہا کہ ان کے اور میرے درمیان کئی یادیں وابستہ ہیں۔ میں اس کتاب کی ایک ایک سطر پڑنے کیلئے بے چین ہوں اور وہ ایک عظیم و مخلص انسان ہیں۔" ابتداء میں وجینتی مالا، مادھوری دکشت اور پرینکا چوپڑہ نے شمع روشن کی اور اپنے خیالات پیش کیے۔

وجینتی مالا نے کہا کہ دلیپ کمار کے ساتھ انہوں نے 7 فلموں میں اداکاری کی اور دیو داس فلم کا ایک واقعہ بتایا جب دلیپ کمار نے نشے کے سین کے لیے کیمرے کے سامنے آنے سے قبل اسٹوڈیو میں دوڑ لگائی اور یہ ایک بہترین سین میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر مادھوری ڈکشٹ نے کہا کہ "دلیپ کمار ایک عظیم اداکار ہیں اور میں ان پر لکھی گئی کتاب پڑھنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ وہ صرف اداکاروں کے لئے ہی نہیں، بلکہ تمام کے لئے مثال ہیں۔ ایک اداکار کے طور پر میں جاننا چاہوں گی کہ وہ اپنے کردار کے ساتھ کیسا رویہ اپناتے تھے اور ان کرداروں کو ادا کرتے ہوئے انہیں کیسا محسوس ہوتا تھا۔

پرینکا نے کہا کہ ’’جب بھی ہندوستانی فلم کی تاریخ لکھی جائے گی اس کے اول صفحہ پر دلیپ کمار کا نام لکھا ہوگا۔‘‘انہوں نے سائرہ بانو کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اپنے خانداد سے قریب کیا۔ کرن جوہر نے نظامت کی اور شان، جاوید اور امت نے ڈاکو مینٹری سے قبل دلیپ کمار کی فلموں کے کئی سدا بہار نغمے پیش کیے۔

مشہور اداکار کی پیدائش محمد یوسف خان کے طور پر پشاور میں ہوئی تھی، لیکن انہوں نے فلموں کیلئے اپنا نام دلیپ کمار رکھ لیا تھا۔ چھ دہائی تک کے طویل کیرئیر میں انہوں نے مدھومتی، دیو داس، مغل اعظم، گنگا جمنا، رام اور شام، کرما اور سوداگر سمیت کئی ہٹ فلمیں دی ہیں۔ انہیں انداز، بابل، میلہ ، دیدار اور جوگن سمیت کئی فلموں میں افسردہ عاشق کا کردار ادا کرنے والے دلیپ کمار کو 'ٹریجڈی کنگ' یعنی شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔

دلیپ کمار آخری بار 1998ء میں آئی فلم ’قلعہ‘ میں نظر آئے تھے۔ انہیں سال 1991ء میں پدم بھوشن اور 1994ء میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا اور وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہے اور انہیں قومی اعزاز بھارت رتن دینے کا مطالبہ بھی ایک عرصے سے جاری ہے۔