.

طالبان رہائی: چک ہیگل امریکی کانگریس کمیٹی کا سامنا کریں گے

یہ پہلا موقع ہے کہ قانون سازوں کو بریف کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل پانچ طالبان رہنماوں کی اپنے ایک فوجی کے بدلے میں رہائی دینے کے حوالے سے امریکی قانون سازوں کو آج مطمئن کرنے کی کو شش کریں گے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما انتظامیہ کا کوئی عہدے دار کانگریس کے ارکان کا سامنا کرے گا۔ چک ہیگل اس سلسلے میں کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیں گے اور پانچ سال تک یرغمال رہنے والے امریکی فوجی بو برجڈل کے بدلے میں پانچ طالبان رہنماوں کی رہائی کے بارے میں سوالوں کا سامنا کریں گے۔

واضح رہے ریپبلکن ارکان کانگریس کے علاوہ بعض ڈیموکریٹس نے بھی اوباما انتظامیہ کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔ اوباما انتظامیہ کو اس وجہ سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ ان رہائیوں کے بارے میں کانگریس کو پیشگی کیوں نہیں بتایا تھا۔

ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما رہائی کے بعد افغانستان پہنچ کر پھر سے جنگجویانہ سرگرمیوں کا حصہ بن جائیں گے۔ اس لیے اوباما انتظامیہ نے انتہائی غلط فیصلہ کیا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی کے مطابق چک ہیگل وضاحت کریں گے کہ قیدیوں کی تجارت کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔

واضح رہے امریکی انتظامیہ نے یہ فیصلہ قیدیوں کے تبادلے سے صرف ایک روز پہلے کیا تھا۔ حتی کے امریکی حکام کو اپنے قیدی فوجی کی رہائی کی جگہ کا بھی ایک گھنٹہ پہلے تک علم نہ تھا۔

ابھی ایک روز پہلے سپیکر جان بوہنر نے کہا ہے کہ ''ہم دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرتے ہیں، ایسا کر کے ہم نے امریکا کا دفاع کمزور کر دیا ہے۔''