.

ترک یرغمالیوں کو نقصان کا شدید رد عمل ہو گا: داود اوگلو

امریکی نائب صدر کا طیب ایردوآن کو فون، مدد کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی وزیر خارجہ احمد داود اوگلو نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں انقرہ کے قونصل خانے پر حملے کے بعد یرغمال بنائے گئے ترک شہریوں کو اگر کوئی نقصان پہنچایا گیا تو ترکی اس کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ادھر امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے ترک یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

داود اوگلو نے کہا کہ "ہمارے شہریوں اور ملازمین کو پہنچایا جانے والا نقصان شدید رد عمل کا باعث ہو گا۔ ترکی کی طاقت کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ہم اس بحران کو پرامن طور پر حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے پیش نظر اپنے شہریوں کی سلامتی ہے۔ ہم انہیں گزند پہنچتا نہیں دیکھ سکتے، تاہم اگر ہمارے شہریوں کو یرغمال بنانے والوں نے انہیں نقصان پہنچایا تو وہ ہمارے رد عمل سے بچ نہیں سکیں گے۔

ترکی حکام نے گذشتہ روز تصدیق کی تھی کہ شمالی عراق میں انقرہ کے قونصل خانے پر داعش کے جنگجووں نے حملہ کیا اور اس کے بعد قونصل جنرل سمیت تقریبا عملے کے پچاس ارکان کو یرغمال بنا لیا۔

اس کے اطلاع کے عام ہوتے ہی ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے نائب بشہر اتالائی اور انٹیلجینس چیف حقان ویدان کے ساتھ فوری طور ہر ہنگامی ملاقات کی جس میں ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس ملاقات کے بعد ایردوآن صدر مملکت عبداللہ گل کے دفتر گئے جہاں انہوں نے ترک مسلح افواج کے سربراہ سے بھی ملاقات میں پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا۔

ادھر ایک ترک عہدیدار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں دعوی کیا ہے کہ انہیں اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یرغمال ترکوں کو موصل میں داعش کے ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا گیا ہے۔

درایں اثنا امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے ترک وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ان شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بائیڈن نے بتایا کہ ان کا ملک عراقی فوج اور کرد سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ملکر ان اقدامات کو تقویت دے رہا ہے جو دونوں حلقے داعش کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے اٹھا رہے ہیں۔

امریکی ںائب صدر نے بتایا کہ امریکا، یرغمال ترکوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر قسم کے اقدامات کے لئے تیار ہے۔ واشنگٹن، ترک اور عراقی دونوں حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ عراق میں پیدا ہونے والی صورتحال بہتر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔