.

داعش کے حملے رکوانے میں عراق کے ساتھ ہیں: امریکا

یو این سیکیورٹی کونسل نے داعش کارروائیوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق شہر موصل کے بعد تکریت میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' نامی سنی جنگجوؤں کے قبضے کے بعد ایران اور امریکا نے کہا ہے کہ وہ بغداد حکومت کے لیے فوجی مدد میں اضافہ کریں گے۔ ادھر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے عراق میں اس تازہ تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکی افواج کے انخلاء کے تقریباﹰ دو برس بعد عراق میں جنگجوؤں کی یہ سب سے بڑی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔ اس صورت میں ناقدین نے ایسے خدشات کا اظہار بھی کر دیا ہے کہ امریکی حمایت یافتہ عراقی فوج انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔

درایں اثناء امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ واشنگٹن عراقی حکومت اور دیگر تمام رہنماؤں کے ساتھ مل کر شدت پسندی کی اس تحریک کو روکنے کے لیے پر عزم ہے۔

تاہم ساکی نے ایسے جائزوں کے مسترد کر دیا کہ عراقی صوبے نینوا میں داعش شدت پسندوں کے تازہ حملے واشنگٹن کے لیے کوئی انوکھی بات ہیں یا اس سے عراق میں امریکی پالیسی کی ناکامی واضح ہوتی ہے۔ امریکا نے 2003ء میں عراق میں اپنی فوجیں اتاریں تھیں۔

خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حکومت نے بغداد اور علاقائی رہنماؤں کو ان سنی جنگجوؤں کے خطرات سے بارہا آگاہ کیا تھا، جو اب بغداد تک پہنچنے والا ہے۔ ساکی نے مزید کہا کہ صدر اوباما کی انتظامیہ عراق میں مزید فوجی ساز و سامان روانہ کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ عراقی فوج جنگجوؤں کا مقابلہ کر سکے۔ تاہم انہوں نے عراقی سر زمین پر امریکی افواج کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ آٹھ سالہ عراقی جنگ کے دوران وہاں ساڑھے چار ہزار امریکی فوج ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر عراقی فضائیہ نے نینوا کے ہمسایہ صوبے صلاح الدین میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ عراق کے سرکاری ٹیلی وژن نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز دن عراقی فضائیہ نے سمارا میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ جنگجو تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے بغداد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

بغداد کے شمال میں 170 کلومیٹر دور واقع تکریت میں شدت پسندوں کے قبضے کے بعد عالمی سطح پر ایک تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں اس تازہ تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔

موصل میں انہی جنگجوؤں نے 80 ترک باشندوں کو یرغمال بھی بنا لیا ہے۔ انقرہ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہریوں کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ جوابی کارروائی سے گریز نہیں کرے گی۔ اس بحرانی صورتحال پر ترکی کی درخواست پر بدھ کے دن برسلز میں نیٹو کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا۔