.

''القاعدہ نے تیونسی وزیرداخلہ کے گھر پر حملہ کیا تھا''

اسلامی مغرب میں القاعدہ نے انٹر نیٹ پر جاری بیان میں حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقہ میں برسر پیکار اسلامی مغرب میں القاعدہ نے گذشتہ ماہ تیونس کے وزیرداخلہ لطفی بن جدو کے گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اس حملے میں چار پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔القاعدہ نے پہلی مرتبہ اس ملک میں اس طرح کے کسی حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسلامی مغرب میں القاعدہ نے جمعہ کو انٹر نیٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شیروں کا ایک گروپ لطفی بن جدو کا سرقلم کرنے کےلیے ان کے گھر گیا تھا اور وہ اللہ کے حکم سے ان کے متعدد ذاتی محافظوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہے ہیں''۔

ایک جہادی انٹرنیٹ فورم پر پوسٹ کیے گئے اس بیان کے مطابق 28 مئی کو مغربی سرحدی شہر القصرين میں وزیرداخلہ کی رہائش گاہ پر حملے میں ان کے بعض محافظ زخمی بھی ہوئے تھے اور حملہ آور ان سے اسلحہ چھین کر فرار ہو گئے تھے۔لطفی بن جدو حملے کے وقت خود گھر میں موجود نہیں تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''وہ اس مرتبہ تو بچ نکلے ہیں لیکن آیندہ نہیں بچیں گے اور امریکا ،فرانس اور الجزائر کو ممنون کرنے کے لیے اسلام کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا''۔

دریں اثناء تیونس کی وزارت داخلہ نے شمالی علاقے جندوبہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو جہادیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ باقی دہشت گردوں کا پیچھا کیا جارہا ہے۔

تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو القاعدہ سے وابستہ ہیں لیکن جہادیوں نے خود اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔اسلامی مغرب میں القاعدہ نے پہلی مرتبہ مذکورہ بیان میں کہا ہے کہ تیونسی فوج الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے جبل الشعانبی میں اس کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔

واضح رہے کہ تیونس کی سکیورٹی فورسز 2012ء سے جبل الشعانبی کے علاقے میں ''اسلامی مغرب میں القاعدہ'' اور دوسرے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔اسی علاقے میں گذشتہ سال جولائی میں جنگجوؤں کے حملے میں آٹھ فوجی مارے گئے تھے۔اپریل میں تیونسی حکام نے جبل الشعانبی اور اس کے نواحی پہاڑی علاقوں کو بند ملٹری زون قرار دے دیا تھا اور وہاں کی مقامی آبادی کو دہشت گرد تنظیموں کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

تیونس میں گذشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں بیس سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور مسلح افراد نے دو الگ الگ واقعات میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دو سیاست دانوں کو قتل کردیا تھا۔ان واقعات کے بعد حزب اختلاف نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردیے تھے جن کے نتیجے میں ملک سیاسی بحران سے دوچار ہوگیا تھا اور اسلامی جماعت النہضہ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔