.

سعودی عرب: عراق میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کی مذمت

خانہ جنگی کا شکار ملک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے پڑوسی ملک عراق میں وزیراعظم نوری المالکی کی فرقہ وارانہ اور دوسروں کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے اور وہاں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیراطلاعات اور ثقافت عبدالعزیز بن محی الدین خوجہ نے دارالحکومت الریاض میں سوموار کو کابینہ کے اجلاس کے بعد بتایا ہے کہ حکومت نے عراق کی صورت حال پر غور کیا ہے اور وہاں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عبدالعزیز خوجہ نے سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی ( ایس پی اے) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراق میں گذشتہ برسوں کے دوران فرقہ وارانہ اور دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کو اختیار نہ کیا جاتا تو حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات پیش نہ آتے۔ان پالیسیوں نے عراق کی سلامتی ،استحکام اور خود مختاری کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

سعودی حکومت نے عراق کے داخلی امور میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور اس کی خود مختاری ،اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے عراق میں جلد سے جلد قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک میں سکیورٹی اور استحکام کو بحال کیا جاسکے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ''حکومت نے عراقی شہریوں کے تحفظ اور ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہرممکن کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور پڑوسی ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر مبنی پالیسیوں سے بھی گریز کا مشورہ دیا ہے''۔

عراق کے شمالی اور شمال مغربی صوبوں میں القاعدہ سے متاثر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) ،اس کے اتحادی مقامی مزاحمت کاروں اور مسلح قبائلیوں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میدان جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انھوں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل ،سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت سمیت بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے عراقی فوج کو مار بھگایا ہے۔انھوں نے دارالحکومت بغداد کی جانب بھی پیش قدمی کی دھمکی دی ہے جبکہ پڑوسی ملک ایران نے مبینہ طور پر وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں فوج کی مدد کے لیے اپنے دستے بھیجے ہیں جس پر سعودی عرب کو تشویش لاحق ہے۔