.

پینٹاگان:عراق میں فوجی کارروائی ؟ایران سے مشاورت مسترد

امریکا عراق میں جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں پر غور کررہا ہے: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ اس ہفتے ویانا میں ایران کے جوہری تنازعے پر بات چیت کے موقع پر امریکی عہدے دار ایرانیوں کے ساتھ عراق کی سکیورٹی کی صورت حال پر تو بات کرسکتے ہیں لیکن امریکا اسلامی جنگجوؤں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنے روایتی دشمن ملک کے ساتھ کوئی رابط یا مشاورت نہیں کرے گا۔

پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی قسم کی فوجی سرگرمی کے حوالے سے رابطہ کاری کا نہ تو کوئی منصوبہ ہے اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔عراق میں فوجی سرگرمی سے متعلق ایران سے کوئی مشاورت نہیں کی جائے گی۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے یاہو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ عراق میں جاری بحران کے حوالے سے تعاون کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میں ایسے کسی امکان کو مسترد نہیں کررہا ہوں ،جو تعمیری ہے''۔

ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا امریکا ایران کے ساتھ عسکری تعاون کرے گا۔ایران عراق کے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کا حامی ہے اور وہ ان کے ساتھ ملک کے شمال اور شمال مغربی علاقوں میں مسلح بغاوت برپا کرنے والے سنی جنگجوؤں اور قبائل کو کچلنے کے لیے تعاون کررہا ہے۔

تاہم جان کیری نے نوری المالکی پر زوردیا ہے کہ وہ مختلف فرقہ وارانہ گروپوں سے تعلق رکھنے والوں کو حکومت کی صفوں میں شامل کریں ،انھیں میز پر لائیں، مگر ایسا ابھی تک مناسب انداز میں نہیں ہوا ہے۔انھوں نے نوری المالکی سے استعفے کا مطالبہ نہیں کیا اور کہا ہے کہ انھیں اقتدار سے ہٹانا عراقی عوام کا کام ہے۔

انھوں نے کہا: ''میرا نہیں خیال کہ امریکا کو ہدایات جاری کرنی چاہئیں بلکہ کسی ملک کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے''۔انھوں نے بتایا کہ ''امریکی صدر براک اوباما عراق میں ڈرون حملوں سمیت ہر امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔امریکا عراقی حکومت کی مدد کے لیے فضائی حملوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور یہ بھی ایک آپشن ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ جب آپ لوگوں کو قتل عام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں تو آپ کو اس کو روکنا ہوگا۔آپ کو وہی کرنا چاہیے جو آپ کرسکتے ہیں۔

امریکا کا ایک جنگی بحری جہاز سوموار کو خلیج میں داخل ہوا ہے۔اس پر سیکڑوں میرینز اور آسپرے روٹر ائیر کرافٹ موجود ہیں۔انھیں میرینز کو عراق میں اتارنے اور وہاں موجود امریکیوں کو نکالنے کے بروئے کار لایا جاسکے گا۔خلیج میں امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش پہلے ہی موجود ہے۔اس پر بھی سیکڑوں میرینز اور جنگی طیارے موجود ہیں۔