.

دہشت گردی کے خلاف جنگ عالمی فریضہ ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کو دہشت گردی ایسے سب سے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ملک کی سرحدوں تک محدود معاملہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ یہ پوری عالمی برادری کی ذمے داری ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالمعلیمی نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔اس اجلاس میں اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

انھوں نے عراق میں رونما ہونے والے واقعات اور خاص طور پر شمالی شہر موصل میں ترکی کے قونصل خانے پر حملے اور سفارتی عملے کے اغوا پر افسوس کا اظہار کیا۔انھوں نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گذشتہ ہفتے دہشت گردوں کے حملے میں تیس انسانی جانی کے ضیاع پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔اس حملے میں ملوث تمام سات یا آٹھ دہشت گرد مارے گئے تھے۔

سعودی سفیر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ان دردناک واقعات کے پیش نظر عالمی برادری عالمی دہشت گردی کے مقابلے میں پُرعزم اور متحد ہوجائے گی۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس نے اس سنگین خطرے سے نمٹنے کے لیے قومی ،علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اقدامات کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انفرادی دہشت گرد اور غیر ملکی دہشت گرد دونوں ہی ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔سعودی مملکت نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے قوانین کا نفاذ کیا اور نئے سفری قواعد وضوابط وضع کیے ہیں جن کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد کو گرفتار کر کے سزائیں دی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سعودی مملکت سنجیدگی کے ساتھ تمام فورموں پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔وہ دہشت گردی پر بین الاقوامی فورم کا رکن ہے اور دہشت گردی کے انسداد کے لیے اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کی کوششوں کو سراہتا ہے''۔