.

برطانیہ کا ایران میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان

تہران میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا درست وقت آگیا ہے:ولیم ہیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک تہران میں بہت جلد اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ولیم ہیگ نے دارالعوام (پارلیمان) میں منگل کو ایک تحریری بیان میں کہا:''میں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ تہران میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا درست وقت آگیا ہے''۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ ہفتے کے روز ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔

برطانیہ کی جانب سے یہ اعلان اس کے قریبی اتحادی امریکا کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ عراق کے شمالی شہروں سے سرکاری فوج کو نکال باہر کر نے والے اسلامی جنگجوؤں اور مسلح قبائلیوں کے خلاف فضائی حملے کرسکتا ہے اور ان کے خلاف اپنے دیرینہ حریف ملک ایران کے ساتھ مل کر بھی کارروائی کر سکتا ہے۔

ولیم ہیگ نے ایران کو شورش زدہ خطے میں ایک اہم ملک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تہران میں سفارت خانے کے عملے کو کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر کام کی اجازت دی جانی چاہیے۔ان کے بہ قول بہت سے عملی ایشوز حل ہوچکے ہیں اور سفارت خانہ ابتدائی طور پر تھوڑے عملے کے ساتھ کام شروع کردے گا۔

برطانیہ نے 2011ء کے آخر میں تہران میں مغربی پابندیوں کے خلاف ایرانیوں کے پُرتشدد مظاہروں کے بعد اپنا سفارت خانہ بند کردیا تھا۔ایرانی مظاہرین نے برطانوی سفارت خانے کی بیرونی دیوار کو مسمار کردیا تھا ،انھوں نے دفاتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی تھی اور عمارت کو نذرآتش کردیا تھا۔

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال نومبر میں جوہری تنازعے پر مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے نتیجے میں عبوری سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے بعد سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری آئی ہے اور برطانیہ نے ایران میں اپنے سفارت خانے میں ناظم الامور کا تقرر کیا تھا۔