.

سیکورٹی خدشات کی بنا پر بصرہ میں ترک قونصلیٹ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے جنوبی عراق کے شہر بصرہ میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ داود اوگلو نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر ایک بیان میں بتایا کہ ان کے ملک نے منگل کے روز جنوبی عراق کے شہر بصرہ میں اپنا قونصل خانہ خالی کر دیا ہے کیونکہ وہاں سیکیورٹی کے خطرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ قونصل خانے کے عملے کو کویت منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر ترک وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا بصرہ میں ہمارے قونصلیٹ کا عملہ اٹھارہ افراد پر مشتمل ہے۔ بصرہ میں ترک قونصل جنرل سمیت تمام عملہ کویت کے راستے ترکی واپس لوٹ رہا ہے، تاہم ترک عہدیدار نے واضح کیا کہ انقرہ، بغداد میں اپنا سفارتخانہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دارلحکومت انقرہ میں ایک فوجداری عدالت نے موصل [عراق] میں یرغمال ترک شہریوں کے بارے میں میڈیا کو کسی بھی قسم کی خبر نشر کرنے روک دیا ہے، جس پر ترکی میں بہت زیادہ ہنگامہ بپا ہو رہا ہے۔ یاد رہے یہ پابندی انٹرنیٹ سمیت تمام میڈیا پر عائد کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق فیصلہ یرغمال ترک شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کے پیش ںظر کیا گیا ہے اور عدالت نے یہ فیصلہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی درخواست پر دیا ہے۔

یاد رہے کہ دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے جنگجووں نے گذشتہ ہفتے عراق کے مختلف شہروں میں حملوں کا آغاز کیا، جس دوران 11 جون کو موصل میں ترک قونصل خانے پر حملہ کر کے عمارت میں موجود 49 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا، جبکہ مسلح جنگجووں نے 31 ترک ٹرک ڈرائیوروں کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے۔