.

ایرانی 'آنٹی' کی کنگن چرانے کی دلیرانہ واردات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چوری جیسا سنگین جرم صرف مردوں تک موقوف نہیں بلکہ خواتین بھی اس میدان میں موجود ہیں بلکہ بسا اوقات اس مقصد کے لیے نت نئے حربے استعمال کرکے مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں ایران کے شہر شیراز میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے نہایت دلیری اور بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئےکمال مہارت کے ساتھ ایک دکان میں گاہک کو چکمہ دے کر دو کنگن چوری کیے اور رفو چکر ہو گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چوری کی اس دلیرانہ وارادت کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی ہے، جس میں خاتون کی ہاتھ کی صفائی اور دوکاندار کی بے اعتنائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ویڈیو فوٹیج سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریبا تیس سالہ خاتون ایک شخص کے ہمراہ شیراز میں ایک سنار کی دکان میں داخل ہوئی اور دکاندار سے زیوارت دیکھانے کو کہا۔ دکاندار نے جیولری کے کچھ نمونے اسے دکھائے۔ خاتون زیورات کو دیکھتی رہی اور ساتھ ہی دکاندار کو باتوں میں لگا دیا۔ باتوں باتوں میں دکاندار نے تو خاتون کی حرکت کی طرف توجہ نہ کی اور اس نے دو کنگن چپکے سے چھپا لیے۔ یہ تمام کارروائی دو مراحل میں کی گئی۔ تاہم خفیہ کیمرے کی آنکھ نے کنگن چوری کرنے کا منظر محفوظ کر لیا۔

اس دوران خاتون کے ہمراہ آنے والے شخص نے ایک شوہر کی طرح معمول کے انداز میں بیوی کو کسی خاص ایونٹ کے لیے کنگن پسند کرنے کی تجویز بھی دی۔ جب خاتون جا چکی تب دوکاندار کو اندازہ ہوا کہ وہ جاتے جاتے اس کےساتھ 'ہاتھ کر گئی'۔ اس نے پولیس کو اطلاع دی لیکن اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت کے مصداق دکاندار کے پاس سر پیٹنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اس نے مانیٹرنگ کیمرے میں محفوظ فوٹیج بھی پولیس کو دی لیکن خاتون کا کچھ اتا پتا نہیں چلا۔

خیال رہے کہ ایران میں صرافہ مارکیٹوں کے بیشتر تاجروں کی جانب سے اسلحہ کی نوک پر دن دہاڑے لوٹے جانے کی شکایات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چوری کی وارداتوں سے بچنے کے لیے دکانوں میں خفیہ کیمرے بھی لگائے گئے ہیں لیکن اس فن کے ماہرین خفیہ کیمروں کے باوجود اپنی مہارت ثابت کر دیتے ہیں۔

ایران میں پولیس کی جانب سے ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ صرافہ بازاروں میں سرقہ کی وارداتوں میں 18 فی صد کمی آئی ہے تاہم مجموعی طور پر چوری کے واقعات میں 26 فی صد اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ چوری، ڈکیتی اور رہ زنی کے واقعات میں اضافے کی ایک بنیادی وجہ ایران میں غربت اور معاشی مسائل بھی ہیں۔