.

فیفا انتظامی کمیٹی کے ارکان کے مشاہرے میں 100 فی صد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے حال ہی میں خفیہ طور پر اپنی تن خواہوں میں دُگنا تک اضافہ کردیا ہے۔

برطانوی اخبار 'سنڈے ٹائمز' میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے اپنی ایک لاکھ ڈالرز کی تنخواہ کو اس سال دگنا کردیا ہے اور اس کو تنظیم کے سوئس بنک اکاؤنٹس میں منتقل کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کو بزنس کلاس میں فضائی سفر ،پنج ستارہ ہوٹلوں میں قیام اور پرتعیش کھانوں کی مفت سہولت بھی حاصل ہے۔فیفا نے اسی سال اپنے ایگزیکٹو ارکان کے لیے 75 ہزار سے دو لاکھ ڈالرز کا بونس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ رقم جس سال فٹ بال عالمی کپ ٹورنا منٹ منعقد ہوتا ہے ،اُس سال دی جاتی ہے۔

لیکن فیفا نے اپنے اس اعلان میں یہ نہیں بتایا تھا کہ اس نے اپنے ارکان کی تن خواہوں میں ایک سو فی صد تک اضافہ کردیا ہے۔سنڈے ٹائمز نے ایک رکن کے حوالے سے لکھا ہے کہ دوسری مراعات اور بونس ختم کرکے ان کی تن خواہوں میں دگنا تک اضافہ کردیا گیا ہے۔

فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کو حال ہی میں قطر کو 2022ء میں ہونے والے فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی کے منتخب کرنے کی وجہ سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔سنڈے ٹائمز ہی نے گذشتہ ماہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سابق رکن کی حیثیت سے قطر سے تعلق رکھنے والے محمد بن ہمام نے کل پچاس لاکھ ڈالرز کی رقم مختلف فٹ بال عہدے داروں کو دی تھی تاکہ وہ قطر کی فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے انتخاب میں مدد دیں۔

اس اخبار نے محمد بن ہمام پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے فیفا کی نیلامی کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم ایشیائی ووٹ کے حصول کے لیے سترہ لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے۔ فیفا کے نائب صدر جیم بوائس کا کہنا ہے کہ اگر قطر پر لگائے گئے یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو وہ کسی اور میزبان ملک کے انتخاب کے لیے رائے شماری کی حمایت کریں گے۔

قطر کی عالمی کپ کمیٹی بدعنوانیوں کے ان الزامات کی تردید کر چکی ہے۔ کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ''بِڈ کمیٹی نے فیفا کے نیلامی کے قواعد وضوابط اور ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پاسداری کی تھی اور وہ عام افراد کے درمیان کاروباری معاملات کے بارے میں بالکل آگاہ نہیں تھی''۔ فیفا کی اخلاقیات کمیٹی ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

قطر پر لگائے گئے الزامات فیفا کی 108سالہ تاریخ میں بدترین کرپشن اسکینڈل کا حصہ تھے۔ یاد رہے کہ محمد بن ہمام فیفا کی صدارت کے بھی امیدوار تھے لیکن 2011ء میں ان پر فیڈریشن کے کیربین خطے سے تعلق رکھنے والے ارکان کو رشوت دینے کا الزام لگا تھا جس کے بعد وہ امیدواری سے دستبردار ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی تحقیقات کی گئی تھی۔ وہ دسمبر 2012ء میں فیفا کا اخلاقی ضابطہ توڑنے کے مرتکب پائے گئے تھے اور فیڈریشن نے ان پر تاحیات پابندی عاید کر دی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔