.

امریکی ٹیمیں عراق میں سر گرم ہو گئیں: پینٹاگان

ان ٹیموں کے ارکان کو عراقی عدالتوں سے تحفظ حاصل ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ عراق کے بعد امریکا کی تین سو فوجی اہلکاروں پر مشتمل ابتدائی ٹیموں نے نوری المالکی کی مدد کے لیے بغداد میں اپنی کام شروع کر دیا ہے۔

نوری الماکی کو ان دنوں القاعدہ سے متاثرہ عسکریت پسند گروپ داعش کے چیلنج کا سامنا ہے۔ پینٹا گان کے ترجمان ایڈمرل جان کربی نے اس بارے میں میڈیا کو بتایا ہے کہ ''ہم نے ابتدائی طور پر صرف جائزے اور تخمینے کے لیے اپنی ٹیمیں بھجوائی ہیں۔ اس میں 40 فوجیوں پر مشتمل دو ٹیمیں شامل ہیں۔ ''

ایڈمرل جان کربی کا اصرار تھا ''امریکی تٹموں کا کردار چیلنج کا اندازہ لگانے سے متعلق ہے، عسکریت پسندوں کے خلاف حملے کرنا نہیں ہے۔''

امریکی ترجمان نے مزید کہا ''یہ ایک طرح سے ریسکیو کے لیے تگ و دو ہے، یہ امریکی ٹیمیں عراقی فورسز کی خواہش اور آمادگی کا جائزہ لے کر موثر ترین طریقوں کے اختیار کرنے کی سفارش کرے گی۔''

واضح رہے ان ٹیموں کی طرف سے امریکی عسکری قیادت کو دو سے تین ہفتوں کے دوران اپنی سفارشات بھجوانا ہوں گی۔

معلوم ہوا ہے کہ پہلی دو ٹیمیں بغداد میں امریکی سفارت خانے میں موجود اہلکاروں پر مشتمل ہیں۔ جبکہ مزید 90 فوجیوں کی مدد سے بغداد میں ایک مشترکہ آپریشن سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ ابھی مزید 50 امریکی فوجیوں کی تعیناتی اگلے چند دنوں میں کیے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے امریکی حکام پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں ''امریکی اہلکاروں کو عراقی عدالتوں سے ہر طرح کا تحفظ ہو گا، اس بارے میں عراق نے امریکا کو یقین دہانی بھی کرائی ہے۔"

وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنیسٹ کا کہنا ہے ''کمانڈر انچیف ضروری یقین دہانیاں حاصل کیے بغیر ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جس کے تحت امریکی مرد و خواتین کو عراق کی خطرناک صورت حال میں تعینات کرنا مقصود ہو۔"