.

عراق کی شکایت پر تین مصری چینلز آف ائر

آزادی صحافت پر پابندی لگانے میں مصر اور پاکستان میں مسابقت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہاوت مشہور ہے کہ 'خربوزے کو دیکھ کرخربوزہ رنگ پکڑتا ہے' کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان اور مصر کے میڈیا کو بھی درپیش ہے جہاں کاروباری مسابقت اور چند 'جنیوئن' وجوہات کی بنا پر ٹی وی چینلز کو بھاری جُرمانے اور معطلی کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مصری میڈیا کا واسطہ بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سے پڑ گیا ہے جہاں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی شکایت پر تین مقبول ٹی وی چینلز پر پابند لگائی گئی ہے۔

مصر کی براڈکاسٹنگ ریگولیرٹری اتھارٹی کے چیئرمین عبدالمنعم الفلاحی اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مصر کے نائل سیٹ کے ذریعے نشریات پیش کرنے والے تین اہم چینلوں کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت کی جانب سے بھی بعض چینلوں کی متنازعہ نشریات کے باعث ان پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

ابھی تک البغدادیہ، الرافدین اور حدث ٹیلی ویژن چینلز بند کیے گئے۔ ان میں سے اول الذکر دونوں عراق اور بعض دوسرے عرب ملکوں میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں ملوث بتائے گئے ہیں جبکہ حدث ٹیلی ویژن کے بارے میں قاہرہ حکام کا موقف ہے کہ اس کا لائسنس زائد المیعاد ہو چکا ہے اور اس نے ابھی تک اس کی تجدید نہیں کرائی ہے۔

عبدالمنعم کا کہنا تھا کہ دو چینلوں کی جانب سے "نائل سیٹ" کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ اس پر ٹی وی انتظامیہ کو کئی بار متنبہ بھی کیا گیا مگر انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔

خیال رہے کہ مصر میں تین ٹی وی چینلوں پر پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب مصر میں آزادی صحافت کا پہلے ہی گلا دبا دیا گیا ہے۔ تین نیوز چینلوں پرپابندی کے جلو میں قطری ٹی وی الجزیرہ کے تین صحافیوں کو کالعدم اخوان المسلمون کی حمایت کی پاداش میں سات سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری نے ان سزاؤں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قاہرہ سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

الجزیرہ کے نامہ نگاروں کی سزاؤں کے بعد اب تین مقبول ٹی وی چینلوں کو عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے ایماء پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نوری المالکی نے شکایت کی ہے کہ تین چینل عراق میں فرقہ واریت کو فروغ دینے اور ملک میں تیزی سے اپنے پنجے مضبوط کرنے والی القاعدہ سے مرعوب تنظیم "دولت اسلامیہ عراق وشام" داعش کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

نائل سیٹ پر پابندیوں کا سامنا کرنے والے چینلوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قاہرہ کی جانب سے پابندی کے باضابطہ اعلان سے ایک ہفتہ قبل ہی چینلوں کی نشریات بند کر دی گئی تھیں۔ جبکہ قاہرہ میں پیمرا طرز کی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ چینلوں کی نشریات مصر، عراق سمیت مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے ملکوں میں دیکھی جاتی رہی ہیں۔ البتہ اب ان کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔

البغدادیہ کے مالکان نے ٹی وی کی نشریات کی بندش کی تصدیق کی ہے، حدث کے چیف آپریٹنگ آفیسر"سی ای او" ایمان خالد نے بتایا کہ ان کا چینل بعض مالی تنازعات کی بناء پر عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔ تاہم الرافدین کے کسی ذمہ دار شخص کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں ٹی وی چینلز پر پابندی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ہر آنے والی حکومت اپنے مخالف ابلاغی اداروں کو دبانے کی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔ مصر میں جولائی 2013ء کو جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ دسیوں ٹی وی چینل اور اخبارات بند کر دیے گئے تھے۔

مصر میں میڈیا پرپابندیاں کی بڑی وجہ سیاسی مخالفت یاحمایت قرار دی جاتی ہیں تاہم پاکستان میں کچھ عرصے سے چینلوں پر پابندی کی وباء نے خود میڈیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے ٹی وی چینل "جیو" کو اس کی بعض دانستہ اور غیر دانستہ اقدامات کی سزاء ملی۔

پاکستان کی میڈیا ریگولیرٹری اتھارٹی 'پیمرا' نےپہلے جیو نیوز اور اس کے بعض دوسرے چینلز کا لائسنس پندرہ روز کے لیے معطل کرنے کرتے ہوئے اسے ایک کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ انہی غلطیوں کا اعادہ کرنے پر اب "اے آر وائے" نیوز چینل کو بھی پندرہ دن کے لیے معطل اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے جبکہ جیو کے انٹرٹینمنٹ چینل کو اہل بیت کی شان میں گستاخی کی پاداش میں ایک ماہ کے بند اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔