.

امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی مارٹن انڈائیک مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن انڈائیک نے استعفیٰ دے دیا ہے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعہ کو ان کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

انھیں گذشتہ سال جولائی میں جان کیری نے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا تاکہ وہ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی اور ان کو کامیاب کرانے میں ان کی معاونت کرسکیں۔

جان کیری کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مارٹن انڈائیک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیرینہ تنازعے کو طے کرانے کے لیے وزیرخارجہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

بیان میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے انڈائیک اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا ہے۔مارٹن انڈائیک سے قبل وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی جارج مشعل مئی 2011ء میں مستعفی ہوگئے تھے۔

باسٹھ سالہ انڈائیک مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر ہونے سےقبل بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں خارجہ پالیسی کے ڈائریکٹر اور نائب صدر تھے اور مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

انڈائیک سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورحکومت میں اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے مشرق قریب رہے تھے۔وہ سنہ 1995ء سے 1997ء تک اسرائیل میں امریکا کے سفیر رہے تھے۔اس کے بعد سنہ 2000ء سے 2001ء تک انھوں نے دوبارہ اسرائیل میں بطور سفیر خدمات انجام دی تھیں۔وہ برطانیہ میں پیدا ہوَئے تھے،بچپن میں وہ والدین کے ہمراہ آسٹریلیا چلے گئے تھے اور سنہ 1993ء میں انھوں نے امریکی شہریت حاصل کر لی تھی۔