.

بھارت: جنسی زیادتی کا خوف، جینز برقی الارم سے لیس

خطرے کی صورت میں برقی الارم پولیس کو خبردار کردے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو نوجوان بھارتی خواتین نے بھارت میں خواتین کے خلاف زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر مشترکہ طور پر نئی قسم کی برقی آلات سے مزین جینز ڈیزائن کی ہے۔

اس جینز کی تیاری نے مقامی پولیس کو پریشان کن اشارے دیے ہیں۔ جنسی زیادتی سے بچائو کے لیے بطور خاص بھارتی خواتین کے لیے تیار کی گئی اس جینز کو سکشا پتھاک اور انجالی سری واستوا نے مل کر ڈیزائن کیا ہے۔

پتھاک کا کہنا ہے کہ،" ہم اس 'دفاعی ہتھیار' کو طویل مدت کے لیے قابل استعمال رکھنے کے نکتہ نگاہ سے تیار کرنا چاہتے ہیں۔'' واضح رہے پتھاک ایک سائنس سٹوڈنٹ ہیں اور ٹیکسی ڈرائیور کی بیٹی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ،" حالیہ اجتماعی زیادتی کے خوفناک واقعات نے مجھے اور میری ساتھی کو سخت صدمے سے دوچار کیا ہے، ہم امید رکھتی ہیں کہ ہماری تیار کردہ جینز پہننے سے کسی اور بھارتی عورت کو اس ظلم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔"

بھارتی خواتین کو بھارتی مردوں کی اندھی جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے سے بچانے کیلیے ان دو خواتین کی طرف سے تیار کی گئی اس خصوصی جینز پر چار ڈالر لاگت آئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس جینز میں ایسے برقی آلات لگائے ہیں جو جنسی زیادتی کی کسی کوشش کی صورت میں قریبی پولیس تھانے کو الارم کر دیں گے۔

یہ برقی آلات ٹریکر کی صورت میں کام کریں گے۔ سگنل ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ کی طرف دوڑ سکے گی۔ اب تک تقریبا دو سو تھانوں کے ساتھ ان برقی آلات کو منسلک کیا گیا ہے۔

اس جنسی زیادتی مخالف جینز کے تجربے کی کامیابی کی صورت میں اسے پورے بھارت میں پھیلا دیا جائے گا۔ خیال رہے ووٹوں کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ہر 22 منٹ بعد ایک خاتون زیادتی کا نشانہ بنائی جاتی ہے۔