.

انڈونیشیا: انتہا پسند جماعتوں کی فٹبال شائقین کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

براعظم ایشیا میں رمضان المبارک کے آغاز کے موقع پر انڈونیشیا میں انتہا پسند جماعتوں نے فٹبال کے عالمی مقابلوں کو 'بد بودار' قرار دیتے ہوئے ان مقابلوں کو اجتماعی طور دکھانے کا اہتمام کرنے والے ریستورانوں اور شراب خانوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا کی 250 ملین نفوس پر مشتمل کل آبادی کا 225 ملین مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ اس ملک میں سرگرم انتہا پسند متشدد جماعتوں نے رات گئے تک کھلے رہنے والے شراب فروخت کرنے والی بارز کو خبردار کیا ہے، کہ ان پر حملے کئے جا سکتے ہیں۔

دارلحکومت جکارتہ میں سرگرم دفاع اسلام محاذ کے سربراہ سلیم الاتاس نے اعلان کیا ہے کہ ان کی تنظیم رمضان المبارک کے منافی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کے عمومی نظام درست رکھنے کے مکلف افراد نے ان غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا نہ کیا تو وہ اپنے خصوصی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انہیں راہ راست پر لائیں گے۔

اعتدال پسند اسلامی ملک انڈونیشیا میں فٹبال ایک انتہائی مقبول کھیل ہے، اس لئے متشدد جماعتوں کی دھکمی کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔

عوام سے کچھا کھچ بھرے ریستوران میں باقی ہم وطنوں کے ساتھ چلی اور برازیل کے درمیان فٹبال میچ دیکھنے والے ایٹانیا برماٹا کا کہنا تھا کہ روزہ ان کی فٹبال سے محبت پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔