.

نئے سعودی قانون سے گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے خاندانی تحفظ کے قومی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مہا المنیف کا کہنا ہے کہ وزارتی کونسل کی جانب سے گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے گذشتہ سال منظور کردہ قانون کے نفاذ کے بعد سے متعلقہ حکام ایسے واقعات کی اطلاع ملنے کے بعد سرعت سے اقدامات کررہے ہیں اور متاثرین کو تحفظ مہیا کررہے ہیں جس سے گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کو متعدد ضمانتیں مہیا کی گئی ہیں۔ان کی طبی نگہداشت کی جاتی ہے،سماجی بحالی کے لیے مدد مہیا کی جاتی ہے اور ان پر دوبارہ تشدد کو رونما ہونے سے روکا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت گھریلو تشدد کے واقعہ کو رپورٹ کرنا معاشرے کی اجتماعی ذمے داری ہے اور جو لوگ ایسے کسی واقعہ کو رپورٹ کریں گے،ان کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی تحقیقات کرنے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے پابند ہیں۔

مہا المنیف کو رواں سال کے اوائل میں امریکی صدر براک اوباما نے امریکی وزیر خارجہ کے بین الاقوامی بہادر خاتون ایوارڈ سے نوازا تھا۔انھوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گھریلو تشدد کو صحت عامہ کے علاوہ ایک سماجی اور خاندانی مسئلہ قراردیا ہے اور اس کی سڑسٹھویں جنرل اسمبلی نے گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شعبہ صحت کے کردار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے خاندانی تحفظ کے پروگرام کے حوالے سے بتایا کہ ''یہ گھریلو تشدد اور بچوں سے مجرمانہ سلوک کے خطرات کے حوالے سے افراد معاشرہ میں بالعموم اور نوجوانوں میں بالخصوص شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس کے علاوہ ایسے کیسوں کو نمٹانے کے ذمے دار پیشہ ور حضرات کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔اس ضمن میں ماہرین اور مقامی اور بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کا تعاون بھی حاصل کیا جارہا ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''اٹھارہ سال سے کم عمر ناروا سلوک کا شکار بچے مدد کے لیے پروگرام کے تحت اس نمبر 116111 ( سعودی عرب) پر رابطہ کرسکتے ہیں۔انھیں اس نمبر پر درپیش مسائل کے حوالے سے مفت مشاورت مہیا کی جاتی ہے''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں نافذالعمل نئے قانون کے تحت گھریلو تشدد میں ملوث افراد کو ایک ماہ سے ایک سال تک قید اور تیرہ سو سے تیرہ ہزار ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔اگر گھریلو تشدد میں ملوث شخص دوبارہ اس جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو پھر اس کی سزا دگنی ہو جائے گی۔

نئے قانون کے تحت افراد اور متعلقہ ادارے ناروا سلوک اور گھریلو تشدد کے کسی بھِی واقعہ کے بارے میں حکام کومطلع کرنے کے پابند ہیں۔اس کے تحت بچوں ،خواتین اور معذور افراد کو تحفظ مہیا کیا گیا ہے۔شدید متاثرہ افراد کو چالیس دن سے تین ماہ تک سرکاری قیام کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔